انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 364

انوار العلوم جلد ۱۵ احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی ( تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۹ ء بر موقع جلسہ سالانہ [ خلافت جو بلی] قادیان ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہا تھا اور ابھی پہلی ہی آیت میں نے پڑھی تھی کہ میری نگاہ سامنے تعلیم الاسلام ہائی سکول پر پڑی اور مجھے وہ نظارہ یاد آ گیا جو آج سے ۲۵ سال پہلے اُس وقت رونما ہوا تھا جب جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تھا اور عمائد کہلانے والے احمدی جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کا نظم ونسق تھا، انہوں نے اپنے تعلقات ہم سے قطع کر لئے اور گویا اس طرح خفگی کا اظہار کیا کہ اگر تم ہمارے منشاء کے ماتحت نہیں چلتے تو لو کام کو خود سنبھال لو ، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جواب فوت ہو چکے ہیں اس مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ اس جگہ پر دس سال کے اندراندر احمدیت نابود ہو کر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اس کے بعد وہ دس سال گزرے، پھر ان کے اوپر دس سال اور گزر گئے ، پھر ان پر چھ سال اور گزر گئے لیکن اگر اُس وقت چند سو آدمی احمدیت کا نام لینے والے یہاں جمع ہوتے تھے تو آج یہاں ہزاروں جمع ہیں اور ان سے بھی زیادہ جمع ہیں جو اس وقت ہمارے رجسٹروں میں لکھے ہوئے تھے اور اس لئے جمع ہیں تا کہ خدائے واحد کی تسبیح و تمجید کریں اور اس کے نام کو بلند کریں (اللہ اکبر کے نعرے) یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مر گیا اور اس کے ساتھی بھی مر گئے ، ان کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جا پڑا مگر احمدیت زندہ رہی زندہ ہے اور زندہ رہے گی دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہ سکی اور نہ