انوارالعلوم (جلد 15) — Page 358
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب کا بندہ بن جاتا ہے تو اس کی نگاہ دوسرے انسان کی طرف اُٹھتی ہی نہیں اور اس کے اندر ایسا تو کل اور عزم پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بڑے سے بڑے کام میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں ڈرتا۔میں نے دیکھا ہے کہ ہر بڑی تحریک جو میں نے شروع کی بعض دفعہ ابتداء میں لوگوں نے ڈرایا بھی کہ یہ کامیاب نہیں ہوگی مگر میں کبھی جھجھکا نہیں اور نا کامی کے خوف سے کبھی نہیں ڈرا۔اس کام کے ہو جانے کے متعلق دعائیں کرتا رہا ہوں مگر یہ بھی پرواہ نہیں کی کہ یہ ہوگا نہیں یا یہ کہ اگر نہ ہوا تو کیا ہوگا اور پھر یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ہوا نہ ہو۔تعویق بعض دفعہ بے شک ہوتی ہے اور بعض اوقات رکاوٹیں بھی پیدا ہوتی ہیں مگر آخر کا ر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ہو گیا۔پس آج میں یہ دو باتیں خاص طور پر خدام الاحمدیہ سے کہنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ واقعات کی دنیا میں قیاس سے کام نہ لو اور جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اس کے متعلق اُس وقت تک مطمئن نہ ہو جا ؤ جب تک کہ وہ ہو نہ جائے اور دوسرے یہ کہ کام اختیار کرتے وقت پوری احتیاط سے کام لو۔وہ کام اپنے یا دوسروں کے ذمہ نہ لگا ؤ جو تم جانتے ہو کہ نہیں کر سکتے اور جب اس امر کا اطمینان کر لو کہ اچھا کام ہے اور تم کر سکتے ہو تو پھر خود ا سے کرنے سے مت جھجھکو پھر جب یہ دیکھو کہ کام ضروری ہے مگر تمہارا نفس کہتا ہے کہ تم اسے کر نہیں سکتے تو اپنے نفس سے کہو کہ تو جھوٹا ہے اور غلط کہتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ ضرور کر دے گا اور پھر اسے شروع کر دو۔جب ماں اپنے بچہ کی ضرورتیں پوری کرتی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے دین کی ضرورت کو پورا نہ کرے۔پس یہ دونوں پہلو اپنی زندگی میں مد نظر رکھو تو پھر تکلیف میں نہیں پڑو گے اور کامیابی حاصل کر سکو گے۔میں نے ایک واقعہ اپنی زندگی کا کئی بار سنایا ہے۔اُس وقت میری عمر صرف انیس سال تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے۔آپ کی بعض پیشگوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ابھی آپ فوت نہیں ہوں گے۔جس وقت آپ کی وفات ہوئی ہے میں نے اپنے کانوں سے ایک شخص کو جو بعد میں مُرتد بھی ہو گیا تھا یہ کہتے سنا کہ آپ پیشگوئیوں کے ماتحت فوت نہیں ہوئے۔اُس روز میری بڑی بیوی لاہور میں ہی اپنے میکے گئی ہوئی تھیں اور آپ کی ایسی حالت دیکھ کر میں ان کو لینے چلا گیا۔جب میں واپس آیا تو آپ کے آخری سانس تھے اور اُس وقت میں نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ ایک شخص کے منہ سے سنے۔وہ کسی اور سے بات کر رہا تھا۔اُس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے