انوارالعلوم (جلد 15) — Page 357
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب فرق صرف تفاصیل کا ہے۔قرآن کریم سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ مومن بھی دنیا میں ہارا کرتے ہیں نبی اور مومن دونوں کے لئے جیتنا مقدر ہے فرق صرف تفاصیل کا ہے۔پس جب تک اپنے اندر یہ یقین اور تو کل پیدا نہ کیا جائے کہ اگر کام اچھا ہے تو اسے کرنا ہے خواہ کوئی ساتھ شامل ہو یا نہ ہو اُس وقت تک کامیابی محال ہے۔جب یہ فیصلہ کر لو کہ کوئی کام اچھا ہے اور طاقت سے باہر نہیں ہے تو لوگ خواہ تمسخر کر میں خواہ کچھ کہیں اسے شروع کر دو اور اگر تم ایسا کرو تو وہ کام ضرور ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اول جب درس دے کر واپس آتے تو اُن دنوں جلانے کے لئے گڈوں پر اُپلے آیا کرتے تھے۔مجھے دو تین مواقع ایسے یاد ہیں کہ چھوٹی بیت کی سیڑھیوں کے پاس چوک میں وہ اُپلے پڑے ہوتے۔بارش کے آثار ہوتے تو خادم ان سے کہتا کہ دو چار آدمی دے دیں تا ان کو اندر رکھ لیں۔آپ فرماتے کہ چلو ہم آدمی بن جاتے ہیں اور قرآن شریف کسی کے ہاتھ میں دے کر اُپلے اُٹھانے لگ جاتے اور پھر دوسرے لوگ بھی شامل ہو جاتے۔پس کام کرنے سے دل پرانا بھی ایک مخفی رکبر کا نتیجہ ہوتا ہے اور جب تک یہ خیال دل سے نہ نکالو گے کہ ہم اکیلے کس طرح کام کر سکتے ہیں کامیابی کی توقع فضول ہے۔پہلے اچھی طرح کام کے متعلق سوچ لو اور پوری احتیاط کے ساتھ غور کر لو اور ایسی اچھی طرح سوچ لو کہ جیسے کہتے ہیں پہلے تو لو پھر منہ سے بولو لیکن جب یہ سمجھ لو کہ یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے تو پھر دائیں بائیں نظرمت ڈالوتم خودا سے شروع کر دو۔اگر کوئی تمہارے ساتھ شامل ہوتا ہے تو سمجھو اس نے تم پر احسان کیا اور اگر نہیں تو اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور جب تم خود ایسی ذہنیت اپنے اندر پیدا کر لو گے تو اللہ تعالیٰ خود دوسروں کو تمہاری امداد کے لئے الہام کرے گا۔یاد رکھو کہ دین کے کام انسانی تدبیروں سے نہیں ہوا کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے ہوتے ہیں۔نادان خیال کرتے ہیں کہ الہام ہمیشہ لفظوں میں ہی ہوتا ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔شرعی احکام کی تفاصیل اور عبادات سے تعلق رکھنے والا الہام ضرور کلام میں ہوتا ہے مگر نیک کام میں مدد کا الہام ضروری نہیں کہ لفظوں میں ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم وحی کریں گے۔تو دینی کاموں میں امداد کے لئے اللہ تعالیٰ عام لوگوں کے دلوں میں الہام کر دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ ان کو توجہ ہو جاتی ہے کہ ہم بھی اس کام میں مدد کریں۔پس جو ضروری کام ہو اُسے انسان کی مدد کے خیال کے بغیر شروع کر دو پھر اللہ تعالیٰ نصرت کرتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ