انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 354

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب فلاں بات ہو نہیں سکتی۔آج کل نوجوانوں سے ایسی باتیں بکثرت سننے میں آتی ہیں کہ کوئی مانتا نہیں ، کوئی سنتا نہیں، یہ بھی بزدلی اور کمزوری کی علامت ہے۔جب کوئی اچھا کام سامنے آئے اس کے متعلق پہلے احتیاط کے ساتھ اچھی طرح غور کر لو اور دیکھ لو کہ جہاں تک انسانی کوشش کا سوال ہے یہ ایسا تو نہیں جو ناممکن ہو اور کارکنوں پر اس سے ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ تو نہیں پڑتا اور جب فیصلہ کر لو کہ یہ طاقت کے اندر ہے تو پھر یہ کوئی قابلِ غور سوال نہیں کہ کوئی کرے گا یا نہیں۔تم خود سے شروع کر دو اور یہ نہ دیکھو کہ کوئی تمہارے ساتھ ہوتا ہے یا نہیں۔میرے بچپن کے کئی کام ایسے ہیں جنہیں آج اتنی تنظیم کے باوجود بھی ہم بآسانی نہیں کر سکتے۔جب ولایت میں مشن قائم ہوا تو خواجہ صاحب ( خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم) نے وہاں سے لکھنا شروع کیا کہ ایک اور آدمی یہاں بھیجا جائے۔حضرت خلیفہ اول نے صدرانجمن احمدیہ کو جو خزانہ کی مالک تھی حکم دیا کہ خواجہ صاحب کی مدد کے لئے کوئی آدمی بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔اس کے لئے کئی کمیٹیاں قائم ہوئیں۔سب نشیب و فراز پر غور کیا گیا، کئی دقتیں سامنے آئیں ، خرچ کا سوال بہت مشکل تھا۔ایک دن حضرت خلیفہ اول نے مجھے فرمایا کہ خواجہ بہت تنگ کر رہا ہے۔میں نے مولوی محمد علی صاحب سے بھی کہا کہ کوئی انتظام کیا جائے وہ بھی کوئی تجویز نہیں کرتے۔انجمن بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی اور میں اس وجہ سے بہت پریشان ہوں۔اُدھر کام خراب ہو رہا ہے اور ادھر یہ لوگ کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔میں وہاں سے اٹھا اور انصار اللہ کی مجلس میں اس بات کو پیش کیا اور کہا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں کوئی شخص اپنے آپ کو پیش کرے۔چودھری فتح محمد صاحب نے کہا کہ میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔اب سوال کرایہ کا رہ گیا۔چودھری صاحب نے کہا کہ تھرڈ کلاس کا جو کرا یہ لگتا ہے وہ مجھے دے دیا جائے معلوم ہوا کرا یہ دوسو کے قریب ہو گا۔سو روپیہ خرچ خوراک وغیرہ کے لئے رکھ لیا گیا اور چند دوستوں نے اُسی وقت یہ روپیہ پورا کر دیا اور میں نے جا کر حضرت خلیفہ اول سے کہہ دیا کہ آدمی بھی تیار ہو گیا ہے اور روپیہ کا انتظام بھی ہو چکا ہے تو اس طرح میں نے انگلستان میں مشن قائم کیا۔چودھری فتح محمد صاحب نے وہاں بعد میں الگ مشن قائم کیا۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسے رنگ میں مجھے کامیاب کیا کہ جس کام کیلئے صدر انجمن احمد یہ کئی مہینے مشورے اور تجویزیں کرتی رہی میں نے وہ چند منٹ میں کر دیا۔آدمی بھی تیار کر لیا اور روپیہ بھی فراہم ہو گیا۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے۔قادیان میں علمی ترقی کے لئے میں نے انجمن سے یہ کہا کہ کوئی انتظام کیا جائے۔جب تک یہاں کوئی ایسا آدمی نہ ہو جو عربی ممالک میں تعلیم