انوارالعلوم (جلد 15) — Page 345
انوار العلوم جلد ۱۵ پولینڈ کے ضروری حصہ کو ہضم کر سکے گا۔ روس اور موجودہ جنگ پس میرے نزدیک انگلستان کے مدبرین کو اس مدترین برطانیہ سے خطاب صورت حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہئے اور اس دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے کہ یہ روسی حملہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے ہے ۔ یہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ سابق سمجھوتہ کے ماتحت ہے اور اب روس اور جرمنی انگریزوں کی طاقت کو توڑنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں ۔ بے شک ان میں شدید اختلاف ہیں ، بے شک وہ ایک وقت میں ظاہر ہوں گے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ اختلافات ابھی ظاہر ہو جائیں گے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ فضل کرکے گل ہی جرمنی اور روس میں لڑائی چھڑ واوے، ممکن ہے با وجود معاہدہ کے روس دل میں یہ ارادہ رکھتا ہو کہ پہلے صلح سے پولینڈ میں داخل ہو جاؤں پھر جرمنی سے نپٹ لوں گا اور چند ہی دنوں میں کسی بہانہ سے جرمنی سے لڑ پڑے۔ سیاسی میدانوں میں ایسے دھو کے پہلے ہو چکے ہیں ۔ ترکی سے جب بلقانی طاقتوں نے جنگ کی ہے تو انہوں نے یہی کیا تھا۔ رومانیہ، سرویا اور یونان نے بلغاریہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا لیکن اندرونی طور پر آپس میں ایک اور معاہدہ بھی کر چھوڑا تھا کہ اگر تر کی پر ہمیں فتح حاصل ہوگئی تو ہم بلغاریہ کو وہ کچھ نہیں دیں گے جس کا ہم نے معاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ ترکی پر فتح پاتے ہی ا اتے ہی انہوں نے بلغاریہ پر حملہ کر کے اس کے بعض حصے چھین لئے ۔ پس اب بھی ایسا ہو سکتا ہے مگر یہ سب امکانات ہیں اگر پورے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر نہ ہوں تو ان حالات کے لئے برطانیہ کو پہلے سے تیار ہو جانا چاہئے اور صرف امیدوں پر اپنی تیاری کا انحصار نہیں رکھنا چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں روس انگلستان اور ترکی کے اتحاد میں دنیا کا امن ہے کی چھت سے بڑی کی وجہ سے سے جو انگریزی اتحاد ہو چکا ہے وہ بھی خطرہ میں ہے اور انگلستان کو اسے اور بھی پکا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر روس جنگ میں شامل ہوا تو اتحادی طاقتوں کی کامیابی کا انحصار صرف اور صرف عالم اسلامی سے تعاون پر ہوگا اور یہ تعاون مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ترکی حکومت اتحادیوں کے ساتھ نہ ہو۔ باقی رہی جنگ ۔ بات اتحادیوں کو کیا کرنا چاہئے پاتی رہی موجودہ جنگ ہے اگر اتحادی میری بات مانیں ان کیلئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ روس کے