انوارالعلوم (جلد 15) — Page 342
انوار العلوم جلد ۱۵ روس اور موجودہ جنگ میرا یہ خیال یقین سے بدل گیا روس کا پولینڈ میں فوجیں لانے پر اصرار جب یہ اعلان ہوا کہ روس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا ہے کہ اس کی فوجیں پولینڈ میں جا کر جرمنوں سے ضرور لڑیں گی۔انگلستان فرانس اور روس کسی اپنی غرض سے سمجھوتہ نہیں کر رہے تھے۔ان کا سمجھوتہ ایک کمزور ملک کو زبردست ہمسائے سے بچانے کے لئے تھا۔اگر وہ کمزور ملک ایک خاص حد تک امدا د کو اپنے تحفظ کیلئے کافی سمجھتا تھا تو مددگار کا اس امر پر اصرار کرنا کیا معنی رکھتا تھا کہ میں تمہارے ملک میں فوجیں بھی ضرور لاؤں گا۔ظاہر تھا کہ روس کا یہ اصرار صرف اس غرض سے تھا کہ روسی فوجیں پولینڈ میں داخل ہو کر جرمنی کے پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بارہ میں ایسی سہولت پیدا کر دیں کہ بغیر خون ریزی کے پولینڈ کی حکومت ختم ہو جائے۔پس یہ اصرار پولینڈ کی امداد کے لئے نہ تھا بلکہ بغیر جنگ کے اس پر قبضہ کرنے کے لئے تھا جس کے بعد وہی کچھ ہونا تھا جواب ہو رہا ہے یعنی پولینڈ کی تقسیم۔میں سمجھتا ہوں اس گفتگو میں پولینڈ کے انکار میں انگریز مدیرین نے جو اس کی تائید کی وہ بہت معقول کام تھا اور جب جرمنی اور روس کے معاہدہ کے امکانات پیدا ہونے پر بظاہر ( ورنہ مخفی طور پر میرے نزد یک تصفیہ پہلے سے ہو چکا تھا) انگلستان نے روس کو یہ دعوت دی کہ اب پولینڈ روسی فوجوں کے پولینڈ میں داخلہ پر راضی ہو جائے گا تو میرے نزدیک یہ وقتی جوش کا نتیجہ تھا۔جس نے دماغ کے انفعال پذیر حصہ کو وقتی طور پر معطل کر دیا تھا۔ورنہ یہ پیش کش گویا دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف تھی جسے وہ صرف اس لئے قبول نہ کر سکا کہ وہ دوسرا قدم اٹھا چکا تھا۔روس اور جرمنی کا خفیہ سمجھوتہ خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے نزدیک روس اور جرمنی میں خفیہ سمجھوتہ دیر سے ہو چکا تھا اور اس کا ماحصل یہ تھا کہ پہلے تو روس اتحادیوں سے مل کر پولینڈ میں اپنی فوجیں بھیجنے کی صورت پیدا کرے اور اس طرح پولینڈ کی حکومت کو بغیر خون ریزی کے تباہ کر دیا جائے۔اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو پھر جرمنی اور روس اپنے خفیہ سمجھوتہ کو ظاہری معاہدہ کی صورت میں بدل دیں اور جرمنی پولینڈ پر حملہ کر دے۔اگر مغربی طاقتیں دخل نہ دیں تو فبھا۔اگر وہ دخل دے دیں تو جب جرمنی پولینڈ کو کچل ڈالے تو بغیر دوسری اقوام سے اعلانِ جنگ کرنے کے روس اپنی فوجیں پولینڈ میں داخل کر دے اور ملک کو حسب معاہدہ تقسیم کر دیا جائے۔