انوارالعلوم (جلد 15) — Page 343
انوار العلوم جلد ۱۵ روس اور موجودہ جنگ روس نے جرمنی کے حملہ کے کہا جا سکتا ہے کہ اس تجویز کی کیا ضرورت تھی کیوں نہ شروع سے ہی روس اور جرمنی نے مل کر پولینڈ پر ساتھ ہی کیوں حملہ نہ کیا ؟ حملہ کر دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہٹلر نے اپنی کتاب MEINE KAMPF میں لکھا ہے کہ سیاست میں بہترین حربہ طاقت نہیں بلکہ رُعب ہے۔انگلستان اور فرانس پولینڈ کی تائید میں اس قدر بڑھ چکے تھے کہ اگر جرمنی اور روس شروع میں ہی مل کر پولینڈ پر حملہ کر دیتے تو اس امر کا ہرگز احتمال نہ تھا کہ انگلستان اور فرانس ان کے اجتماع سے مرعوب ہو کر پولینڈ کی مدد نہ کرتے۔نفسیاتی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ وقت انگلستان یا فرانس کے مرعوب ہونے کا ہر گز نہ تھا اور ہٹلر جو ماہر نفسیات ہے اس امر کو خوب سمجھتا تھا۔دوسرے پولینڈ کی تباہی سے پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ پولینڈ اس قدر جلد تباہ ہو جائے گا اس لئے اس نے روس سے یہ سمجھوتہ کیا کہ وہ پہلے جنگ میں شامل نہ ہو بلکہ جب جرمنی پولینڈ کو تباہ کر دے تو وہ اپنا حصہ لینے کے لئے اپنی فوجیں داخل کر دے۔جو شخص بھی انسانی دماغ کا صحیح مطالعہ کرنے والا ہو سمجھ سکتا ہے کہ سب سے عمدہ موقع اپنے دشمن کو مرعوب کرنے کا وہ ہوتا ہے جب دشمن پر یہ امر روشن ہو جائے کہ جس کام کو میں کرنا چاہتا تھا اس کا وقت تو گزر چکا ہے اب کسی بڑی قربانی کو پیش کرنا صرف قوم کی جانوں اور ملک کی طاقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔پس جب ہٹلر پولینڈ کو فتح کرلے اس وقت اگر ایک اور بڑی طاقت جو بہ ظاہر انگلستان اور فرانس کی دشمن نہیں پولینڈ کی تقسیم میں حصہ دار ہو جاتی ہے طبعا انگلستان اور فرانس کے مدبرین کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ:۔(۱) پولینڈ پر حملہ جرمنی نے کیا تھا۔(۲) اس کے اصول ایسے جارحانہ ہیں کہ ان کے خلاف ہمارے ملک میں سخت منافرت کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔(۳) اگر وہ پولینڈ پر قبضہ کر لیتا تو ہم جنگ کے بعد پولینڈ کو اس سے آزاد کرا دیتے۔مگر اب صورت حالات مختلف ہے۔پولینڈ کا ایک حصہ روس میں مل چکا ہے۔اگر ہم جرمنی کو شکست بھی دے دیں تو ہم پولینڈ کو آزاد نہیں کرا سکتے۔کیا ان حالات میں لڑائی جاری رکھنی ضروری ہے؟ کیا بے تعلق دنیا اور اس کی حکومتیں اب ہمارے لڑائی کو جاری رکھنے کو پسندیدہ