انوارالعلوم (جلد 15) — Page 331
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) تفسیر مت کرو لیکن دنیا نے ابھی تو قرآن کی تفسیر لکھنے میں ایک جنگل کی لکڑی بھی ختم نہیں کی اور سمندر چھوڑ ایک کنویں کے پانی جتنی سیاہی بھی اس پر خرچ نہیں کی۔پس ابھی ہمیں اس حق سے کوئی روک نہیں سکتا اور یہ حق ہمارا اُس وقت تک چلتا چلا جائے گا جب تک سمندروں میں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔یا درخت کی ایک شاخ بھی دنیا میں پائی جاتی ہے ہاں تمہا را بے شک یہ حق ہے کہ تم ثابت کرو کہ ہم قرآن کریم کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اسلام کے خلاف ہے، اس بات سے تمہیں کوئی نہیں روکتا مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم قرآن کے نئے معانی کیوں کرتے ہو میں ان سے کہتا ہوں کہ اسے نالائقو ! اور اے احمقو! تم تو خشکی میں تڑپ رہے ہو اور ہم خدا تعالیٰ کے ایک وسیع سمندر میں غوطے لگا رہے ہیں۔تم ریت کے تودوں پر کو ٹتے ہو اور طعنے ان لوگوں کو دے رہے ہو جو سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے ہیں۔پس خدا سے ڈرو اور خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے بحر ذخار کو پتوں کی کشتیوں میں پار کرنے کی کوشش نہ کرو اور کو دکر اس کو پھلانگ جانے کے دعووں سے اپنی نادانی ظاہر نہ کرو۔میں نے جب ان باتوں کو دیکھا تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی اور میں نے کہا، افسوس خزانے موجود ہیں ، قلعے موجود ہیں ، رصد گاہیں موجود ہیں ، سمندر موجود ہے مگر ان کو دیکھنے والا کوئی نہیں ، آثار قدیمہ کی جن لوگوں کے ہاتھوں میں خدا نے کنجیاں دی تھیں انہوں نے اُن آثار قدیمہ کو خراب کر دیا، تباہ کر دیا اور اس قدر ان کی حالت کو مشتہ کر دیا کہ ان پر کوئی شخص اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا تھا تب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم کو نازل کیا۔یہ آپ کے دل کا خون ہی تھا جو آسمان سے قرآن کو کھینچ لایا۔اس قرآن کے آثار قدیمہ کے مختلف کمروں میں آدم اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور ہارون اور دیگر تمام انبیاء کی چیزیں ایک قرینہ سے پڑی ہوئی ہیں میل کچیل سے مبرا، داغوں اور دھبوں سے صاف، چھینٹوں اور غلاظت سے پاک ہر چیز اصل اور حقیقی رنگ میں ہمارے پاس ہے۔پرانے سے پرانے آثار اس میں پائے جاتے ہیں اور صحیح سے صحیح حالات اس میں موجود ہیں مگر افسوس ہزار افسوس کہ لوگ اس عظیم الشان خزانہ کی تو قدر نہیں کرتے مگر چند پھٹے ہوئے کاغذ، چند ٹوٹی ہوئی چھریاں ، چند پرانے اور بوسیدہ کپڑے اور چند شکستہ برتن جب کوئی زمین سے نکالتا ہے تو اُس کی تعریف کے شور سے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں واہ واہ! اس نے کس قدر عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔وہ خزانہ جو خدا نے اُن کو دیا تھا اس کو وہ بھول گئے ، وہ سمندر جو خدا نے ان