انوارالعلوم (جلد 15) — Page 332
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کو عطا کیا تھا اس سے انہوں نے منہ موڑ لیا، وہ تمام رصد گا ہیں جو قرآن میں موجود تھیں اُن سے وہ غافل اور لا پرواہ ہو گئے تب خدا نے میرے دل پر اس عظیم الشان را ز کا انکشاف کیا اور میرے دل نے کہا میں نے پالیا، میں نے پالیا اور جب میں نے کہا۔میں نے پالیا، میں نے پالیا تو اس کے معنے یہ تھے کہ اب یہ نعمتیں دنیا سے زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہ سکتیں۔میں دنیا کے سامنے ان تمام نعمتوں کو ایک ایک کر کے رکھونگا اور اُسے مجبور کروں گا کہ وہ اس کی طرف توجہ کرے۔پس اے دوستو ! میں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان قرآن کریم کا بلند ترین مقام خزانہ سے تمہیں مطلع کرتا ہوں۔دنیا کے علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔دنیا کی تمام تحقیقا تیں اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ، قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف و حقائق کا حامل ہے۔یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا ہے، یہ ابو بکر کے لئے بھی کھلا تھا، یہ عمر کے لئے بھی کھلا تھا، یہ عثمان کے لئے بھی کھلا تھا، یہ علی کے لئے بھی کھلا تھا یہ بعد میں آنے والے ہزار ہا اولیاء وصلحاء کے لئے بھی کھلا تھا اور آج جب کہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح دُنیوی علوم میں آجکل زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آجکل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے اچھا تاجر پہلے اپنا مال مخفی رکھتا ہے، مگر جب مقابلہ آپڑتا ہے تو پہلے ایک تھان نکالتا ہے پھر دوسرا تھان نکالتا ہے پھر تیسرا تھان نکالتا ہے اور یکے بعد دیگرے نکالتا ہی جاتا ہے یہاں تک کہ تھانوں کا انبار لگ جاتا ہے۔اسی طرح جب بھی دنیا ظاہری علوم میں ترقی کر جانے کے گھمنڈ میں قرآن کا مقابلہ کرنا چاہے گی ، قرآن اپنے ماننے والوں سے کہے گا میاں ! ذرا میرے فلاں کمرہ کو تو کھولنا۔اُسے کھولا جائے گا تو دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہو کر رہ جائیں گے۔پھر ضرورت پر وہ دوسرا کمرہ کھولے گا اور پھر تیسرا اور اس طرح ہمیشہ ہی دنیا کو اس کے مقابل پر زک پہنچے گی اور ہمیشہ ہی قرآن نئے سے نئے علوم پیش کرتا رہے گا۔یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنا ہماری جماعت کا اولین فرض ہے اور ہم حتی المقدور اپنے اس فرض کو ادا بھی کر رہے ہیں۔دنیا ہماری اسی لئے مخالف ہے کہ وہ کہتی ہے کہ تم قرآن کی