انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 321

انوار العلوم جلد ۱۵ ، سیر روحانی تقریر (۱) کے وجود کو تسلیم کیا ہے تو اس کا فلک کی تشریح اگر کہا جائے کہ پہلے فلاسفروں نے بھی افلاک کے وجود کو جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی فلک کا وجود تسلیم کیا ہے مگر وہ شے سَمَاء سے جُدا ہے ۔ فلک در حقیقت نظام شمسی کے پھیلاؤ کا نام ہے اور اُن وُسعتوں کو کہتے ہیں جن میں نظام شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں ۔ چنانچہ سورہ انبیاء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ دھو الذي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ " یہی مضمون سوره یس رکوع ۳ میں بھی آیا ہے۔ پس فلک یا افلاک کو تسلیم کر کے یونانی فلاسفر اس نظام سماوی کے قائل نہیں کہلا سکتے جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے ۔ وہ افلاک کے علاوہ اور تھے ہے اور نظامِ شمسی کے اوپر کے نظاموں پر دلالت کرتا ہے اور صرف ایک محیط پر دلال اور دلالت نہیں کرتا جس میں نظامِ شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں ۔ - تیسری بات اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ یہ نظام ہم نے اس لئے بنابہ ہے کہ الَّا تَطْغَوْا في الميزان - وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ - تم میزان میں تعدّی سے کام نہ لو اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور وزن میں کوئی کمی نہ کرو۔ یا یہ کہ ہم نے تم کو بیان العلوم اس لئے سکھایا ہے کہ تا میزان میں تعدّی سے کام نہ لو وغیرہ وغیرہ ۔ اس میں یہ نکتہ بتایا ہے کہ انسان اُسی وقت ظلم اور زیادتی سے کام لے سکتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو قانونِ عالم سے آزاد سمجھتا ہو لیکن اگر وہ اپنے آپ کو عالم کی مشین کا ایک پُر زہ سمجھتا ہو تو کبھی اپنے مقام کو نہیں بھول سکتا۔ کیونکہ مشین کا جو پُر زہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو وہ ٹوٹنے اور کمزور ہو جانے کے خطرہ میں پڑ جاتا ہے یا خود اُس مشین کو توڑ ڈالتا ہے جس کا وہ پُر زہ ہوتا ہے ۔ پس فرماتا ہے کہ نظامِ شمسی انسانی ہدایت کا موجب ہے اور اس کی تأثیرات کو دیکھ کر انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں آزاد نہیں بلکہ ایک نظام کا فرد یا ایک مشین کا پُر زہ ہوں ۔ پس اگر میں نے دوسرے گل پرزوں کے کام میں دخل دیا اور اُن کے حق کو چھینا چاہا یا اپنے کام میں سستی کی یا دوسروں کے حق ادا کرنے میں کوتاہی کی تو اس کا نقصان مجھے ہی پہنچے گا اور جب میں بظاہر دوسرے پر ظلم کر رہا ہوں گا تو در حقیقت میں اپنی ہی جان پر ظلم کر رہا ہونگا اور جب میں کسی کا حق کسی اور کو دے رہا ہوں گا تو در حقیقت اپنے ہی حق کو ضائع کر رہا ہونگا۔ چوتھی بات یہ بتائی ہے کہ نظام عالم انسان کے تمدن میں ترقی کے لئے ایک بہت بڑی ہدایت ہے اگر انسان نظام عالم کو اپنا را ہنما بنا کر اس کے مطابق نظامِ انسانی کو ڈھال لے تو وہ ہر