انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 308

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) آفت آئے گی وہ یہی آفت تھی کہ ابراہیم آگ میں جل کر مر گیا۔مگر جب انہوں نے آگ جلائی اور حضرت ابرا ہیم کو اُس میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ بارش ہو گئی اور آگ بجھ گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس میں سے سلامت نکل آئے اور اس طرح جو تدبیر انہوں نے زائچہ کو درست ثابت کرنے کے لئے اختیار کی تھی وہ بھی ناکام گئی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کے بعد دوسرے یا تیسرے دن انہوں نے دوبارہ آگ میں نہیں ڈالا کیونکہ اگر دوسرے تیسرے دن پھر آگ میں ڈالتے تو ان کی سچائی ثابت نہ ہوسکتی۔ان کے زائچہ کی سچائی اُسی وقت ثابت ہو سکتی تھی جب کہ اُسی گھڑی حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں جل جاتے جس گھڑی آپ پر کسی آفت کا اُترنا زائچہ بتلاتا تھا مگر جب وہ وقت گزر گیا تو چونکہ اس کے بعد اگر آپ کو وہ دوبارہ بھی آگ میں ڈالتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تکذیب نہیں ہو سکتی تھی اس لئے پھر انہوں نے آپ کو آگ میں نہ ڈالا حالانکہ اگر انہوں نے آپ کو تو حید کی وجہ سے ہی آگ میں ڈالا تھا تو چاہئے تھا کہ ایک دفعہ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے تھے تو دوسری دفعہ پھر آپ کو جلانے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے بعد میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے آپ کو آگ میں اسی لئے ڈالا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی وہ خبر درست نکلے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق زائچہ سے نکلی تھی۔اب دیکھو یہ کس طرح ایک مکمل دلیل ستارہ پرستوں کے خلاف بن گئی۔زائچہ دیکھا گیا اور اس سے سب کے سامنے یہ نتیجہ نکلا کہ ابراہیم پر اسی وقت کوئی شدید آفت آنیوالی ہے جو اسے تباہ کر دیگی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بس اسی پر میری اور تمہاری بحث ختم۔اگر میں تباہ ہو گیا تو تم سچے اور اگر نہ ہوا تو میں سچا۔جب وہ چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تکذیب واضح کرنے کے لئے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا۔اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو اُس دن بتوں کو خاص طور پر توڑنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا۔آپ نے اُس دن خاص طور پر اسی لئے بت تو ڑے کہ جس وقت آپ بُت تو ڑ رہے تھے وہی وقت زائچہ کے مطابق آپ کی بیماری کا تھا۔پس آپ نے اپنے عمل سے انہیں زبر دست شکست دی اور بتایا کہ تم تو کہتے تھے میں فلاں وقت بیمار ہو جاؤں گا مگر میں نے اسی وقت تمہارے بتوں کے ناک کاٹ ڈالے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ جب ان کی قوم کو یہ خطرناک زک پہنچی تو اس کے بعد آپ