انوارالعلوم (جلد 15) — Page 287
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) دی ہے اس پر ہمارے نبی نے اپنی بیوی کو کچھ بات بتا دی اور کچھ نہ بتائی جب ہمارے نبی نے وہ بات اپنی بیوی سے کہی تو اُس نے کہا کہ آپ کو یہ بات کس نے کہہ دی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات اُسی نے بتائی ہے جو زمین و آسمان کا خدا ہے اور جو دلوں کے بھیدوں سے واقف اور تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔اب یہاں اس بات کا ذکر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہی تھی محض ضمیروں میں کیا گیا ہے اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایک بات تھی جو ہمارے نبی نے اپنی ایک بیوی کو بتائی ، وہ بات اُس بیوی نے کسی اور کو بتا دی۔اس پر خدا نے الہام نازل کیا اور اپنے رسول کو بتایا کہ وہ بات جو تو نے اپنی بیوی سے کہی تھی وہ اُس نے کسی اور سے کہہ دی ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا اپنی بیوی سے ذکر کر دیا بیوی کہنے لگی یہ بات آپ کو کس نے بتائی؟ آپ نے فرمایا مجھے علیم اور خبیر خدا نے یہ بات بتائی ہے۔یہ ساری ضمیریں ہیں جن میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر بات کا کہیں ذکر نہیں ، لیکن ہمارے مفسرین ہیں کہ وہ اپنی تفسیروں میں یہ بحث لے بیٹھے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی سے کیا بات کہی تھی۔پھر کوئی مفسر کوئی بات پیش کرتا ہے اور کوئی مفتر کوئی بات پیش کرتا ہے حالانکہ اس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، جب خدا نے ایک بات کو چھپایا ہے اور یہ پسند نہیں کیا کہ اُسے ظاہر کرے تو کسی مفسر کا کیا حق ہے کہ وہ اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور اگر وہ کوئی بات بیان بھی کر دے تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بات درست ہوگی ، یقیناً جس بات کو خدا چُھپائے اُسے کوئی ظاہر نہیں کر سکتا اور اگر کوئی قیاس دوڑائے گا بھی تو وہ کوئی پختہ اور یقینی بات نہیں ہوگی محض ایک ظن ہو گا یہی حال شجرہ آدم کا ہے جب خدا نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ شجرہ کیا تھا تو ہم کون ہیں جو اُس شجرہ کو معلوم کر سکیں۔تم کسی چیز کا نام شجرہ رکھ لو مختصر طور پر اتنا سمجھ لو کہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اس کے قریب نہ جانا مگر حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان نے دھوکا دے دیا اور وہ اُس کے قریب چلے گئے جس پر انہیں بعد میں بہت کچھ تکلیف اُٹھانی پڑی۔بہر حال بہتر یہی ہے کہ جس بات کو خدا نے چھپایا ہے اُس کی جستجو نہ کی جائے اور بلا وجہ یہ نہ کہا جائے کہ شجرہ سے فلاں چیز مراد ہے، لیکن اگر کسی کی اس جواب سے تسلی نہیں ہوتی تو پھر وہ یوں سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تھا کہ دیکھنا شیطان کے پاس نہ جانا وہ تمہارا سخت دشمن ہے اگر اس کی باتوں میں آگئے تو وہ ضرور کسی وقت تمہیں دھوکا دے دیگا۔حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا مگر شیطان نے جب دیکھا کہ یہ میرے داؤ