انوارالعلوم (جلد 15) — Page 284
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) (۸) آٹھویں انہیں ایک واجب الاطاعت امیر ماننے کا بھی حکم تھا، جیسا کہ اِنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة " کے الفاظ سے ظاہر ہے۔(۹) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں بعض ایسے احکام بھی نازل ہوئے تھے جن میں یہ ذکر تھا کہ تمہیں بعض جرائم کی سزا بھی دینی چاہئے جیسے قتل وغیرہ ہیں۔اس امر کا استنباط آ تجعل فيْهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدّماء " کے الفاظ سے ہوتا ہے۔یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اب دنیا میں ایک عجیب سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ بعض آدمیوں کو قانونی طور پر یہ اختیار دے دیا جائے گا کہ وہ دوسروں کو مار ڈالیں ، جیسے ہر گورنمنٹ آجکل قاتلوں کو پھانسی دیتی ہے مگر گورنمنٹ کے پھانسی دینے کو بُرا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی تعریف کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی اور قتل کر دیتا ہے تو اُسے سخت مُجرم سمجھا جاتا ہے۔فرشتوں کے لئے یہی بات حیرت کا موجب ہوئی اور انہوں نے کہا، ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ پہلے تو قتل کو نا جائز سمجھا جاتا تھا مگر اب آدم جب کسی کو قتل کی سزا میں قتل کر دے گا تو اس کا یہ فعل اچھا سمجھا جائے گا۔کوئی اور گھر سے نکال دے تو وہ مجرم سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر آدم کسی کو جلا وطنی کی سزا دے گا تو یہ جائز سمجھا جائے گا۔اس زمانہ میں روزانہ ایسا ہی ہوتا ہے گورنمنٹ مجرموں کو پھانسی پر لٹکاتی۔مگر کوئی اُسے ظالم نہیں کہتا ، وہ لوگوں کو جلا وطنی کی سزا دیتی ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ گورنمنٹ نے بُرا کیا لیکن اُس زمانہ میں یہ ایک نیا قانون تھا اور فرشتوں کیلئے قابلِ حیرت۔پس فرشتے بطور سوال اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ پہلے تو قتل کو نا جائز سمجھا جاتا تھا مگر اب قتل کی ایک جائز صورت بھی پیدا کر لی گئی ہے یا پہلے تو دوسروں کو اپنے گھروں سے نکالنا جرم سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کی ایک جائز صورت بھی نکل آئی ہے اور آدم جب یہی فعل کرے گا تو اس کا فعل جائز اور مستحسن سمجھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں اُن کے اسی سوال کا جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ تمہیں علم نہیں ، دنیا میں نظام کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ مجرموں کو سزائیں دی جائیں اگر ان کو سزائیں نہ دی جائیں تو کارخانہ عالم بالکل درہم برہم ہو جائے تو آ تجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدّماء کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اُس وقت جرائم کی سزا بھی مقرر ہو چکی تھی۔ہے