انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 285

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) (۱۰) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت شادی کے احکام بھی نازل ہو چکے تھے کیونکہ آدم کی بیوی کا ذکر کیا گیا ہے، گویا مرد و عورت کے تعلقات کو ایک قانون کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔پیدائش انسانی کے متعلق قرآنی آثار قدیمہ کا خلاصہ خلاصه ی که قرآنی آثار قدیمہ نے ابتدائے خلق کا ذکر یوں کیا ہے کہ مخلوق خالق کے حکم سے بنی ہے۔پہلے باریک ذرات تیار ہوئے ، پھر پانی نے الگ شکل اختیار کی پھر وہ خشک ذرات سے مرکب ہوا، اور ایک قوتِ نامیہ پیدا ہوئی۔اس سے مختلف تغیرات کے بعد حیوان پیدا ہو ا ، حیوان آخر نطفہ سے پیدا ہونے والا وجود بنا یعنی نر، مادہ کا امتیاز پیدا ہوا، اس کے بعد ایک خاص حیوان نے ترقی کی اور عقلی حیوان بنا۔مگر عقل تھی مگر تھا ناری، حمدن کے قبول کرنے کی طاقت اس میں نہ تھی ، غاروں میں رہتا تھا۔اس کے بعد ایسا انسان بنا جو تمدن کا اہل تھا اسے الہام ہونا شروع ہوا اور وہ پہلا تمدن صرف اتنا تھا کہ (۱) نکاح کرو (۲) قتل نہ کرو (۳) فساد نہ کرو (۴) ننگے نہ رہو (۵) ایک دوسرے کی کھانے پینے ، پہننے اور رہائش کے معاملہ میں مدد کرو (۶) اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیا کرو (۷) ایک شخص کو اپنا حاکم تسلیم کرلو اور اُس کے ہر حکم کی اطاعت کرو اور اگر تم اس کے کسی حکم کوتو ڑو تو تم سزا برداشت کرنے کے لئے تیار رہو۔یہ اُس وقت کی گورنمنٹ تھی اور یہی اس گورنمنٹ کا قانون تھا اور یہ علم جو میں نے قرآن کریم سے اخذ کر کے بیان کیا ہے ایسا واضح ہے کہ موجودہ تحقیق اس سے بڑھ کر کوئی بات بیان نہیں کر سکتی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدم کے متعلق کوئی تاریخ ایسا علم مہیا نہیں کرتی جیسا علم کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔ڈارون تھیوری پر اہل یورپ کو بہت کچھ ناز ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ ڈارون تھیوری بھی اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔وہ نہایت ہی بیوقوفی کی تھیوری ہے جو اہلِ مغرب کی طرف سے پیش کی جاتی ہے، میں ہمیشہ اس تھیوری کے پیش کرنے والوں سے کہا کرتا ہوں کہ اچھا جس چیز سے انسان پہلے بنا تھا اُس چیز سے اب کیوں نہیں بن سکتا ؟ میں نے دیکھا ہے جب بھی میں یہ سوال کروں وہ عجیب انداز میں سر ہلا کر گویا کہ میں اس تھیوری سے بالکل ناواقف ہوں کہہ دیتے ہیں کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ تسغیر لاکھوں بلکہ کروڑوں سال میں ہوا ہے۔میں انہیں یہ کہا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو جانور موجود ہیں ان پر بھی لاکھوں کروڑوں سال گزر چکے ہیں پھر وہ تغیر کیوں بند ہو گیا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ آدم سے لے