انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 281

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) عورتوں کے حقوق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی لئے لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ تم عورت کی روح کو کچلنے کی کوشش نہ کیا کرو۔ اس کے اندر یہ ایک فطرتی مادہ ہے کہ وہ مرد سے کسی قدر رقابت رکھتی اور طبعاً ایک حد تک اس کے مخالف رائے دینے کی خواہشمند ہوتی ہے پس اگر اس کی بحث غلط بھی معلوم ہوا کرے تو اس کی برداشت کیا کرو کیونکہ اگر تم اسے چُپ کرا دو گے تو یہ اس کی فطرت پر گراں گزرے گا اور وہ بیمار ہو جائے گی ۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی مگر لوگوں نے اس حدیث کے یہ معنی کر لئے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ پہلے دور انسانی کا نظام قانون قرآنی آثار قدیمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام والی ابتدائی حکومت کا قانون کیا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ پہلا دور انسانی صرف تمدنی ترقی تک محدود تھا۔ اس طرح کہ : - (۱) لوگوں میں خدا تعالیٰ کا اجمالی ایمان پیدا ہو گیا تھا اور انسان کو الہام ہونا شروع ہو گیا تھا جیسا کہ قُلْنَا يادم وغیرہ الفاظ سے ظاہر ہے۔ (۲) انسانوں میں عائلی زندگی پیدا کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ زندگی جو قبیلوں والی زندگی ہوتی ہے اور انہیں کہا گیا تھا کہ ایک مقام پر رہو اور اکٹھے رہو چنانچہ یہ امر اسکن انت وَزَوْجُكَ الجنة کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ (۳) آدم پر اور لوگ بھی ایمان لائے اور ایک جماعت تیار ہو گئی تھی جو نظام کے مطابق رہنے کیلئے تیار تھی۔ اس کا ثبوت سورة طه کی آیت قَالَ اهبطا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لبحضٍ عَدُوٌّ ہے جمِيعًا کا لفظ بتاتا ہے کہ اس سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور اُس کی بیوی ۔ اور تعصم کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ ایک جماعت تھی ۔ (۴) الجنَّة اور كُلا مِنْهَا رَ غَدًا کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت کی معظم غذا پھل وغیرہ تھے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک سبزیوں ، ترکاریوں کے اُگائے جانے کا کام ابھی شروع نہیں ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں میوہ دار درختوں کے جھنڈ پیدا کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ تم وہاں جا کر رہو ۔ شاید بعض لوگ کہیں کہ اتنے بڑے جُھنڈ کہاں ہو سکتے ہیں جس پر سینکڑوں لوگ گزارہ کر سکیں ؟ سوایسے لوگ اگر جنوبی ہند کے بعض علاقے دیکھیں تو ان پر الجنة کے لفظ کی حقیقت واضح ہو جائے ۔ وہاں بعض میں ہیں میل تک شریفے کے