انوارالعلوم (جلد 15) — Page 278
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کی گئی ہے۔حدیث کے اصل الفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہیں یہ ہیں کہ خُلِقَنَ مِنْ ضِلع ۳۸ یہ الفاظ نہیں ہیں کہ خُلِقَتْ حَوَّاء مِنْ ضِلع جس طرح قرآن کریم کی ان آیات میں جن میں خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کے الفاظ آتے ہیں ہر عورت کا ذکر ہے حوا کا ذکر نہیں اسی طرح حدیث میں بھی حوا کا کہیں نام نہیں بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ خُلِقَنَ مِنْ ضِلع اگر یہ الفاظ ہوتے کہ خُلِقَتْ زَوْجَةُ آدَمَ مِنْ ضِلع تب تو یہ کہا جا سکتا کہ حوا جو آدم کی بیوی تھیں وہ پہلی سے پیدا ہوئیں مگر جب کسی حدیث میں بھی اس قسم کے الفاظ نہیں آتے بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ ذکر آتا ہے کہ وہ پہلی سے پیدا ہوئیں تو محض حوا کو پسلی سے پیدا شدہ قرار دینا اور باقی عورتوں کے متعلق تاویل سے کام لینا کس طرح درست ہوسکتا ہے اسی طرح ایک اور حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ النِّسَاءُ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ ۳۹ کہ ساری عورتیں پہلی سے پیدا ہوئی ہیں۔پس جس طرح قرآنی آیات میں تمام عورتوں کا ذکر ہے اسی طرح احادیث میں بھی تمام عورتوں کا ذکر ہے اور ہر ایک کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ پہلی سے پیدا ہوئی۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ پہلی سے پیدا ہونے کے کیا معنے ہیں؟ کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی عورت پسلی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ جس طرح مرد پیدا ہوتے ہیں اسی طرح عورتیں پیدا ہوتی ہیں پس جب کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح پیدا ہوتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا کہ عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں سو یا د رکھنا چاہئے کہ یہ بھی اسی محاورہ کے مطابق ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اور اس محاورہ سے صرف یہ مراد لی جاتی ہے کہ یہ امر فلاں شخص کی طبیعت میں داخل ہے پس خُلِقَنَ مِنْ ضلع سے صرف یہ مراد ہے کہ عورت کو کسی قدر مرد سے رقابت ہوتی ہے اور وہ اس کے مخالف چلنے کی طبعا خواہشمند ہوتی ہے، چنانچہ علمائے احادیث نے بھی یہ معنے کئے ہیں اور مجمع البجا رجلد دوم میں جو لغت حدیث کی نہایت مشہور کتاب ہے ضلع کے نیچے لکھا ہے۔خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ اسْتِعَارَةٌ لِلْمُعَوَّجِ اَى خُلِقْنَ خَلْقاً فِيهَا الْاِعْوِجَاجُ۔۔۔۔خُلِقْنَ من ضلع " ایک محاورہ ہے جو بجی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ عورتوں کی طبیعت میں ایک قسم کی کبھی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ عورتوں میں بے ایمانی ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ عورت کو خاوند کی بات سے کسی قدر ضر ور رقابت ہوتی ہے۔مرد کہے یوں کرنا چاہئے تو وہ کہے گی یوں نہیں اسی طرح ہونا چاہئے اور خاوند کی بات پر ضرور اعتراض کرے گی اور جب وہ کوئی بات مانے گی بھی تو تھوڑی سی بحث کر کے اور یہ اس کی ایک ناز کی حالت ہوتی ہے اور اس