انوارالعلوم (جلد 15) — Page 275
انوار العلوم جلد ۱۵ متمدن نہیں ہو ا تھا اور شریعت کا حامل نہیں ہو سکتا تھا۔سیر روحانی تقریر (۱) حضرت آدم کے متعلق ایک اور زبردست انکشاف ایک اور زبردست انکشاف قرآن کریم آدمِ انسانیت کی نسبت یہ کرتا ہے کہ جنت میں لائے جانے سے پہلے ہی اُس کے پاس اُس کی بیوی تھی ، چنانچہ قرآن کریم میں آدم کی بیوی کی پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں ، بلکہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ بیوی عام طریق پر اس کے ساتھ تھی جیسے مرد و عورت ہوتے ہیں۔چنانچہ :- (1) سورۃ بقرہ میں جہاں آدم اور اس کی بیوی کا ذکر آتا ہے وہاں آدم کی بیوی پیدا کرنے کا کوئی ذکر ہی نہیں۔محض یہ حکم ہے یا در اسکن آلت وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ٣٣ اے آدم ! جا تو اور تیری بیوی تم دونوں جنت میں رہو۔یہ نہیں کہا کہ آدم اکیلا تھا اور اُس کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا بلکہ آیت کا جو اسلوب بیان ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی پہلے سے موجود تھے۔انہیں صرف یہ حکم دیدیا گیا کہ تم فلاں جگہ رہو۔(۲) سورۃ اعراف میں بھی صرف یہ ذکر ہے کہ یا دما شکن آلت وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ٣٤ (۳) تیسری جگہ جہاں آدم کی بیوی کا ذکر ہے وہ سورۃ طہ ہے مگر اس میں بھی صرف یہ ذکر ہے که ياده إنّ هذا عدو لك ولزوجات ۳۵ یہ ذکر نہیں کہ آدم کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس کی بیوی کو بھی پیدا کیا ہو۔ان تینوں جگہوں میں جہاں آدم کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے اس کی بیوی کا ذکر محض ایک عام بات کے طور پر کیا گیا ہے حالانکہ اگر آدم اکیلا ہوتا اور حوا کو اُس کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہوتا تو اس کی بیوی کا ذکر خاص اہمیت رکھتا تھا اور یہ بتایا جانا چاہئے تھا کہ آدم کی ایک پسلی نکال کر اسے عورت بنادیا گیا بیشک ایک حدیث میں ایسا ذکر آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے مگر اس کا مطلب میرے کسی مضمون میں آگے چل کر بیان ہو گا۔ہاں سورۃ نساء رکوع ، سورۃ اعراف رکوع ۲۴ سورة الزمر رکوع میں ایک بیوی کی پیدائش کا ذکر ہے ایک جگہ لکھا ہے وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور دو جگہ لکھا ہے وجعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور ان الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے مگر ان تینوں جگہ خلقكم من نفس واحدی کے الفاظ آتے ہیں آدم کا نام نہیں ہے کہ یہ شبہ کیا جا سکے کہ ان آیات میں آدم اور حوا کی پیدائش کا ذکر ہے چنانچہ ان میں سے ایک حوالہ سورہ نساء کا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا