انوارالعلوم (جلد 15) — Page 270
انوارالعلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) تھے جنہوں نے الہی حکم کے مطابق با ہمی اُنس اختیار کر کے متمدن زندگی کی بنیاد رکھی اور جن وہ تھے جنہوں نے اس سے انکار کر کے اطاعت سے باہر رہنے اور حمد نی زندگی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔پس وہ جنہوں نے تمدنی زندگی اختیار کر لی اور سطح زمین پر رہنے لگ گئے وہ انس کہلائے اور جنہوں نے سطح زمین پر رہنے اور تمدنی زندگی اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ غاروں میں ہی رہیں گے وہ جن کہلائے۔آج یورپ کے ماہرین آثار قدیمہ اس بات سے پھولے نہیں سماتے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں ہزار تحقیق و تجسس کے بعد یہ راز دریافت کر لیا ہے کہ ابتداء میں انسان غاروں میں رہا کرتے تھے مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ایسے لوگوں کا نام جن رکھ کر بتا دیا کہ وہ غاروں میں رہا کرتے تھے۔آثار قدیمہ سے قرآنی نظریہ کی تصدیق آج پرانے سے پرانے آثار قدیمہ کو زمینوں میں سے کھود کھود کر اس بات کا اعلان کیا جارہا ہے کہ ابتدائی انسان غار میں رہا کرتا تھا۔پھر بعد میں وہ سطح زمین پر رہنے لگا، مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سو سال پہلے یہ بتا دیا تھا کہ انسان پہلے جن بنا اور بعد میں انسان بنا۔پہلے وہ غاروں میں رہا مگر بعد میں سطح زمین پر آ کر بسا۔جب تک وہ غاروں میں رہا وہ جن " نام کا مستحق تھا مگر جب وہ سطح زمین پر آ کر بسا تو وہ آدم اور انسان کہلانے لگ گیا۔لوگ سر دُھنتے ہیں اُن کتابوں کو پڑھ کر جو آج سے صرف سو سال پہلے لکھی گئی ہیں اور وہ نہیں دیکھتے اُس کتاب کو جو آج سے تیرہ سو سال پہلے سے یہ مسئلہ پیش کر رہی ہے پس جن کا لفظ تیرہ سو سال پہلے سے اس کیو مین (Caveman) کی خبر دیتا ہے جسے یورپ نے بارہ سو سال بعد دریافت کیا ہے۔ہمارے قرآن نے اس کیو مین“ کا ذکر جن کے نام سے جس کے قریباً لفظی معنے ”کیو مین کے ہی ہیں آج سے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔پس وہ جس کا نام لوگوں نے کیومین رکھا ہے اُس کا نام قرآن نے ”جن“ رکھا ہے یعنی غاروں کے اندر چُھپ کر رہنے والا۔جب اس نے سطح زمین پر رہنا شروع کیا تو اس کا نام آدم ہوا اور آدم کے لفظی معنے یہی ہیں کہ سطح زمین پر رہنے والا۔اگر کہا جائے کہ ابلیس تو کہتا ہے کہ آنا خير منْهُ، خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍةٌ خَلَقْتَهُ من طین کے میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور آدم کو پانی ملی ہوئی مٹی