انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 267

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) عداوت ہو چکی ہے ۔ یہ آیت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے ہی تھے ۔ ایک شبہ کا ازالہ اس میں کوئی فیہ نہیں ک یہ نہیں کہ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اخبطوا کی بجائے اشیطا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر وہاں بھی قرآن کریم نے اس مشکل کو آپ ہی حل کر دیا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ طہ میں فرماتا ہے ۔ قَالَ اهْبِطَ مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضِ عدد ۲۴ کہ ہم نے کہا دونوں یہاں سے چلے جاؤ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے ۔ اب اگر دونوں سے مراد آدم اور حوا لئے جائیں تو اس آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آدم اور حوا آپس میں دشمن رہیں گے حالانکہ یہ معنے بالبداہت غلط ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ دونوں سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا ۔ اور اللہ تعالیٰ ني اهبطا مِنْهَا جَمِيعًا کہہ کر یہ حکم دیا ہے کہ اے آدم کے گروہ اور اے شیطان کے گروہ ! تم دونوں اس جگہ سے چلے جاؤ ۔ اب تم دونوں گروہ آپس میں ہمیشہ دشمن رہو گے، پھر اس بات کا ایک اور ثبوت کہ ان دو سے مراد دوگروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا یہ بھی ہے کہ اشیا کے ساتھ جميعا کا لفظ بھی آتا ہے ، حالانکہ دو کے لئے عربی زبان میں جمیعا کبھی نہیں آ سکتا۔ پس چونکہ آدم کے بھی کئی ساتھی تھے اور شیطان کے بھی کئی ساتھی تھے اس لئے دونوں کے لى اهبطا مِنْهَا جَمِيعًا کے الفاظ استعمال کئے گئے ۔ اسی طرح جہاں دشمنی کا ذکر ہے وہاں بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ کے الفاظ ہیں اور حکم کے لفظ نے بھی جو تین یا تین سے زیادہ کے لئے بولا جاتا ہے بتا دیا ہے کہ جن کو نکلنے کا حکم دیا ہے وہ ایک جماعت تھی نہ کہ دو شخص ۔ پھر اس آیت سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آدم کی نسل اور شیطان کی نسل دونوں نے ایک جگہ اکٹھا رہنا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلَى حِينٍ که اے شیطان کے ساتھیو اور اے آدم کے ساتھیو! تم دونوں نے دنیا میں اکٹھا رہنا ہے پس ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تم دونوں ایک دوسرے کی دشمنی سے بچتے رہنا اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ان آیات سے نکلتی ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں کوئی الگ الگ جنس نہیں تھے بلکہ ایک ہی جنس میں سے تھے چنانچہ سورۃ بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ شیطان کے ساتھیوں اور آدم کے ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ۔ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ