انوارالعلوم (جلد 15) — Page 268
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) يحزنون ۳ کہ اے آدم کے ساتھیو اور اے ابلیس کے ساتھیو! تم سب یہاں سے چلے جاؤ، مگر یاد رکھو کہ کبھی کبھی تمہارے پاس میرے نبی بھی آیا کریں گے جو لوگ ان انبیاء کو مان لیں گے وہ ہر قسم کے روحانی خطرات سے محفوظ رہیں گے مگر وہ لوگ جو اُن کو نہیں مانیں گے وہ میری ناراضگی کے مورد ہونگے۔اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد کبھی شیطان کی ساتھی بن جایا کریگی اور کبھی شیطان کی اولاد آدم کی اولاد بن جایا کریگی کیونکہ اس آیت سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے کہ ابلیس اور نسلِ ابلیس کے لئے بھی ایمان لانا ممکن تھا اور جب کہ نسل ابلیس کے لئے بھی ایمان لا نا ممکن تھا اور یہ بھی امکان تھا کہ کبھی آدم کی اولا د کسی نبی کا انکار کر دے تو صاف معلوم ہوا کہ یہ دونوں نسلیں آپس میں تبادلہ کرتی رہیں گی۔کبھی شیطان کی نسل آدم کی نسل ہو جائے گی اور کبھی آدم کی نسل شیطان کی نسل ہو جائے گی کیونکہ ابلیس اور نسلِ ابلیس کے لئے اس آیت سے ایمان لا ناممکن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ان کا ایمان لانا ممکن ہی نہ ہوتا تو ان کی طرف ہدایت کے آنے کے کوئی معنے نہ تھے۔پھر سورہ اعراف میں اس مضمون کے بعد یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ اے آدم کی نسل اور اے ابلیس کی نسل ! قَالَ فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ " تم دونوں اسی زمین کے اندر زندہ رہو گے ، یہیں مرو گے اور اسی زمین سے تمہارا حشر ہوگا یعنی بنو آدم کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھی نہ صرف رہیں گے بلکہ بنو آدم کی طرح زمین پر زندگی بسر کریں گے ، انہی کی طرح مریں گے اور زمین میں دفن ہونگے اور پھر انہی کی طرح ان کا قبور سے حشر ہوگا پس معلوم ہوا کہ یہ جن کسی اور جنس کے لوگ نہیں بلکہ نسلاً یہ لوگ وہی ہیں جو بنو آدم ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح آدم کی نسل زمین میں زندہ رہے گی اسی طرح ابلیس اور اس کی نسل زمین میں زندہ رہے گی ، جس طرح آدم کی نسل کھائے بیٹے گی اسی طرح ابلیس کی نسل کھائے پئے گی۔جس طرح آدم کی نسل مرے گی اور زمین میں دفن ہوگی اسی طرح ابلیس کی نسل مرے گی اور زمین میں دفن ہو گی۔اور پھر یہ بھی بتادیا کہ جب ہمارے انبیاء آئیں گے تو وہ اِن دونوں کو مخاطب کرینگے ، پھر جو لوگ انہیں مان لیں گے وہ آدم کی حقیقی اولاد کہلائیں گے اور جو لوگ نہیں مانیں گے وہ ابلیس بن جائیں گے پس معلوم ہوا کہ آدم کے مقابلہ میں جو لوگ تھے خواہ انہیں ابلیس اور نسل ابلیس کہہ لو اور خواہ جن کہہ لو بہر حال جنس کے لحاظ سے وہ بشر ہی تھے۔فرق صرف اخلاق ، تمدن، اور شریعت کا تھا جس کی وجہ سے ان