انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 266

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ثم قلنا للمَلَكَةِ اسْجُدُوا لأدم " يعنی ہم نے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا ، پھر ان کو مکمل کیا پھر ان کے دماغوں کی تکمیل کی اور انہیں عقل والا انسان بنایا اور پھر ہم نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔یہ نہیں کہا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔بلکہ یہ فرماتا ہے کہ اے نسلِ انسانی ! میں نے تم کو پیدا کیا اور صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ صورتكم میں نے تمہیں ترقی دی ، تمہارے دماغی قوالی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہوگئی تو میں نے ایک آدمی کھڑا کر دیا اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے کیونکہ خُلَقْنَكُمْ اور صور نكم پہلے ہوا ہے اور آدم کا واقعہ بعد میں ہوا ہے حالانکہ اگر وہی خیال صحیح ہوتا جو لوگوں میں پایا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ یوں کہتا کہ میں نے پہلے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو اُسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔پھر میں نے تم کو اس سے پیدا کیا۔مگر خدا تعالیٰ یہ نہیں فرما تا بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں نے پہلے انسانوں کو پیدا کیا، ان کی صورتوں کی تکمیل کی اور پھر ان میں سے آدم کے متعلق ملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔پس یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے۔آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے تھے میرا دوسرا دعوئی یہ تھا کہ آدم اور ابلیس در حقیقت نسل انسانی میں سے ہی تھے اس بات کا ثبوت بھی قرآن کریم سے ملتا ہے۔(1) اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں جہاں اس نے آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے فرماتا ہے۔فَازَ لَهُمَا الشَّيْطن عنهَا فَاخْرَجَهُمَا مِمَّا عَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لبعض عدو وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرَةٌ مَتَاءً إلى جنین ۲۳ کہ آدم اور اُس کی بیوی دونوں کو شیطان نے ورغلا دیا اور دھوکا دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ناراضگی ہوئی اور ہم نے کہا کہ اهبطوا تم اے شیطان کے لوگو اور اے آدم کے ساتھیو! سارے کے سارے یہاں سے چلے جاؤ۔جمع کا صیغہ ہے جو خدا تعالیٰ نے استعمال کیا۔اگر اس سے مراد صرف آدم اور حوا ہوتے تو وہ تو دوہی تھے ان کے لئے جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا جاتا۔انہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا کہ تم دونوں چلے جاؤ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرماتا ہے ساری کی ساری جماعت یہاں سے چلی جائے۔آدم ، وا اور ان کے ساتھیوں کو بھی یہ حکم دیتا ہے اور ابلیس اور اس کے ساتھیوں کو بھی یہ حکم دیتا ہے اور سب سے کہتا ہے کہ اس علاقہ سے چلے جاؤ کیونکہ اب تمہاری آپس میں