انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 265

انوار العلوم جلد ۱۵ ا سیر روحانی تقریر (۱) مقابلہ میں دوسرے لوگ جو گو اسی جنس میں سے تھے مگر چونکہ وہ قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور غاروں میں چُھپ کر رہے اس لئے وہ جن کہلاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں بعد میں بھی بڑے آدمی جو اندر چھپ کر رہتے ہیں انہیں جن کہا جانے لگا کیونکہ ان کی ڈیوڑھیوں پر دربان ہوتے ہیں اور ہر شخص آسانی سے اندر نہیں جا سکتا۔اسی طرح غیر اقوام کے افراد کو بھی جن کہا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں غیر قوموں کے افراد کے لئے بھی جن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر چونکہ یہ تفصیل کا وقت نہیں ہے اس لئے میں وہ آیات بیان نہیں کر سکتا ، ورنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے قرآن کریم سے ایسے قطعی اور یقینی ثبوت نکال لئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں جن کا لفظ انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔میں نے اُن آدمیوں کا بھی پتہ لے لیا ہے جنہیں قرآن کریم میں "جن“ کہا گیا۔اُن شہروں کا بھی پتہ لے لیا ہے جن میں وہ جن رہتے تھے اور تاریخی گواہیاں بھی اس امر کے ثبوت کے لئے مہیا کر لی ہیں کہ وہ جن انسان ہی تھے کوئی غیر مرئی مخلوق نہ تھی۔اب میں آیات قرآنیہ سے اُن مسائل کے دلائل بیان کرتا ہوں جن کا اس وقت میں نے ذکر کیا ہے۔آدم پہلا بشر نہیں میرا پہلا کوئی یہ تھا کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہے کہ آدم پہلا بشر نہیں یعنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے یکدم پیدا کر دیا ہو اور پھر اس سے نسلِ انسانی کا آغاز ہوا ہو، بلکہ اس سے پہلے بھی انسان موجود تھے ، چنانچہ اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں آدم کے ذکر میں فرماتا ہے کہ اس نے فرشتوں سے کہا۔انّي جَاعِلُ في الأَرْضِ خَلِيفَةٌ " میں زمین میں ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں اگر آدم پہلا شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اسے فرشتوں سے یوں کہنا چاہئے تھا کہ میں زمین میں ایک شخص کو پیدا کرنے والا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اورلوگ پہلے سے زمین میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے آدم کو اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا۔پس یہ پہلی آیت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق آتی ہے اور یہاں پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں۔دوسری آیت جس سے اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت آدم سے پہلے بھی آدمی موجود تھے سورہ اعراف کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ولَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَورُ نَكُمْ