انوارالعلوم (جلد 15) — Page 264
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) قانون بھی نہ تھا ، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ لوگ سطح زمین پر رہیں اور غاروں میں رہنا چھوڑ دیں ، تو وہ لوگ جو سطح زمین پر نہیں رہنا چاہتے تھے انہوں نے آپ کی مخالفت کی جیسے افریقہ کے حبشی پہلے ننگے رہا کرتے تھے۔شروع شروع میں جب انگریز آئے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ حبشیوں کو کپڑے پہنائے جائیں۔چنانچہ انہوں نے شہر کے دروازوں پر آدمی مقرر کر دیئے اور انہیں کپڑے دے کر حکم دیدیا کہ جب کوئی حبشی شہر کے اندر داخل ہونا چاہے تو اُسے کہا جائے کہ وہ نگا شہر میں داخل نہ ہو بلکہ تہ بند باندھ کر اندر جائے ، چونکہ وہ ہمیشہ نگے رہتے چلے آئے تھے اور کپڑے پہننے کی انہیں عادت نہ تھی اس لئے وہ بڑے لڑتے اور کہتے کہ ہم سے یہ بے حیائی برداشت نہیں ہو سکتی کہ ہم کپڑے پہن کر شہر میں داخل ہوں ، ہمارے بھائی بند اور دوست ہمیں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔مگر انہیں کہا جاتا کہ ننگے جانے کی اجازت نہیں ، کپڑے پہن لو اور چلے جاؤ، چنانچہ مجبوراً وہ کپڑے پہنتے مگر جب شہر میں سے گزرتے تو ادھر اُدھر کنکھیوں سے دیکھتے بھی جاتے کہ کہیں ان کا کوئی دوست انہیں اس بے حیائی کی حالت میں دیکھ تو نہیں رہا، چنانچہ بڑی مشکل سے وہ شہر میں کچھ وقت گزارتے اور جب شہر سے باہر نکلنے لگتے تو ابھی پچاس ساٹھ قدم کے فاصلہ پر ہی ہوتے تو تہہ بندا تار کر زور سے پھینک دیتے اور ننگے بھاگتے ہوئے چلے جاتے۔تو جس چیز کی انسان کو عادت نہیں ہوتی اُس سے وہ گھبراتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی چونکہ ایسے لوگ تھے جو قانون کی پابندی نہیں کر سکتے تھے اس لئے انہوں نے سطح زمین پر رہنا پسند نہ کیا اور وہ بدستور غاروں میں رہتے رہے۔جنس ایک ہی تھی، لیکن اس کا ایک حصہ تو سطح زمین پر آ گیا دوسرا سطح زمین پر نہ آیا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح انسانِ کامل باہر رہنے کی وجہ سے آدم نام پانے کا مستحق بنا اسی طرح انسان ناقص غاروں میں رہنے کی وجہ سے جن نام پانے کا مستحق ہوا کیونکہ جن کے معنی پوشیدہ رہنے والے کے ہیں۔پس اُس وقت نسلِ انسانی کے دو نام ہو گئے ایک وہ جو آ دم کہلاتے تھے اور دوسرے وہ جو جن کہلاتے تھے۔آدم کے ساتھ تعلق رکھنے والے جولوگ تھے انہوں نے میدان میں جھونپڑیاں بنائیں، مکانات بنائے اور مل جل کر رہنے لگ گئے۔پس سطح زمین پر رہنے اور سورج کی شعاعوں اور کھلی ہوا میں رہنے سے گندم گوں ہو جانے کی وجہ سے وہ آدم کہلائے ، اسی طرح وہ انسان بھی کہلائے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے اُنس کرتے اور متمدن اور مہذب انسانوں کی طرح زمین پر مل جل کر رہتے اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے۔اس کے