انوارالعلوم (جلد 15) — Page 261
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) (۴) چوتھے یہ کہ پہلے وہ جمادی دور سے گزرا ہے یعنی ایسی حالت سے جو جمادات والی حالت تھی۔(۵) پانچویں یہ کہ اس کے بعد وہ حیوانی حالت میں آیا جب کہ اس میں زندگی پیدا ہو گئی تھی ، لیکن ابھی اس میں عقل پیدا نہ ہوئی تھی۔وہ جانوروں کی طرح چلتا پھرتا اور کھاتا پیتا تھا۔(1) اس کے بعد اس میں عقل پیدا ہوئی اور وہ حیوانِ ناطق ہو گیا مگر ابھی چونکہ اس میں کچھ کسر باقی تھی اس لئے پھر (۷) اُس نے اور زیادہ ترقی کی اور وہ اس حالت سے بڑھ کر متمدن انسان ہو گیا جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے ثُمَّ جَعَلَكُمْ آزَواجات میں کیا ہے یعنی انفرادی ترقی کی جگہ نظام اور قانون کی ترقی نے لے لی اور پارٹی سسٹم شروع ہو گیا اور اب بجائے اس کے کہ ہر انسان الگ الگ کام کرتا جیسے بندر اور سؤر اور گتے وغیرہ کرتے ہیں۔انسان نے مل کر کام کرنا شروع کر دیا اور نظام اور قانون کی ترقی شروع ہوئی۔یہ چار بڑے بڑے دور ہیں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں یعنی :- (۱) جمادی دور (۲) حیوانی دور (۳) عقل کا دور اور (۴) متمدن انسان کا دور۔ان کے درمیان اور بھی کڑیاں ہیں لیکن وہ حذف کر دی گئی ہیں۔اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی دور دراصل وہی کہلا سکتا ہے جب کہ بشر نے عقل حاصل کی۔جب تک اسے عقل حاصل نہیں تھی وہ ایک حیوان تھا گو خدا کے مد نظر یہی تھا کہ وہ اسے ایک باشعور اور متمدن انسان بنائے مگر بہر حال جب تک اس میں عقل نہیں تھی وہ انسان نہیں کہلا سکتا تھا اُس وقت اس کی ایسی ہی حالت تھی جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے۔اب ماں کے پیٹ میں جب بچہ ہوتا ہے تو وہ انسانی بچہ ہی ہوتا ہے گتا نہیں ہوتا مگر چونکہ اس میں ابھی بہت کچھ کمزوری ہوتی ہے اس لئے وہ کامل انسان بھی نہیں ہوتا۔اسی طرح انہیں انسانی شکل تو حاصل تھی مگر انسانیت کے کمالات انہوں نے حاصل نہیں کئے تھے اور نہ ابھی تک ان میں عقل پیدا ہوئی تھی۔انسان کہلانے کا وہ اُسی وقت مستحق تھا جب کہ اس نے عقل حاصل کی لیکن اس دور کو بھی حقیقی معنوں میں دور انسانیت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انسان کی کامل خصوصیت عقل نہیں بلکہ نظام اور قانون کے ماتحت زندگی بسر کرنا ہے اور یہی انسانی پیدائش کا مقصود ہے اسی لئے میں اصطلاحاً عقل والے دور کو بشری دور اول کہوں گا اور نظام والے دور کو انسانی دور کہوں گا۔یعنی پہلے دور میں وہ صرف بشر تھا اور دوسرے دور میں بشر و انسان دونوں اُس کے نام تھے۔