انوارالعلوم (جلد 15) — Page 260
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) اوپر کی آیت میں بتایا ہے کہ انسان کی پیدائش اول طین سے ہوئی اس کے بعد فرماتا ہے۔ثُمَّ جَعَل نشلة من سُللَةٍ مِّن قَاءٍ مِّهِينٍ کا کہ پیدائش ثانی طین سے نہیں بلکہ ماء ممنن یعنی نطفہ سے ہوئی ہے اور ہم نے بجائے مٹی اور پانی کے نسلِ انسانی کے لئے نطفہ کا سلسلہ جاری کر دیا۔جیسا کہ ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آلَمْ نَخْلُقُكُم مِّن مَّاء لمين - فَجَعَلْنَهُ في قَرَارٍ مَّكين - إلى قَدَرٍ مَّعْلُوم 1 یعنی کیا ہم نے تم کو ایک کمزور اور حقیر پانی کی بوند سے پیدا نہیں کیا اور پھر اس کمزور اور حقیر بوند کو ایک قرار وثبات کی جگہ میں ایک زمانہ تک رکھ کر پیدا نہیں کیا ؟ پس صاف معلوم ہو گیا کہ مٹی کی حالت ایک وقت کی تھی پھر وہ وقت آیا جب کہ مٹی اور پانی ملایا گیا ، مگر نسل انسانی جو پیدا ہوئی ہے یہ مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی ہے پس مٹی والا زمانہ اور ہے پانی والا زمانہ اور ہے اور نطفے والا زمانہ اور ہے۔پیدائش انسانی کے متعلق عام قرآنی اصول پھر عام اصول پیدائش کا قرآن کریم نے یہ بتایا کہ وان إلى رَبِّكَ الْمُنتَهى۔وانه هو اضحك وابكى وأنّه هُوَ امَات وَاحْيَا وَانَّه خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذكر والأنثى مِن نُّطْفَةٍ إِذا تُمْنَى ، وَان عَلَيْهِ النَّشَاةُ الأخْرى 19 کہ دیکھو تمہاری ابتدا ء خدا سے ہوئی اور تمہاری انتہاء بھی خدا تک جاتی ہے تمہاری حالت ایسی ہی ہے جیسے قوس کے درمیان و تر ہوتا ہے جس طرح کمان کو خم دید یا جائے تو اس کے دونوں اطراف آپس میں مل جاتے ہیں۔اسی طرح اگر تم اپنی پیدائش کی طرف چلتے چلے جاؤ اور دیکھو کہ تم کس طرح پیدا ہوئے تو تمہیں ایک خدا اس تمام خلق کے پیچھے نظر آئے گا۔اور اگر تم دیکھو کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے تو وہاں بھی تمہیں خدا ہی دکھائی دے گا، گویا انسان کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ سے شروع ہوتی ہے اور اس کی انتہاء بھی خدا تعالیٰ پر ہے اور باریک در باریک ہوتے ہوئے آخر خدا تعالیٰ پر سبب اولی ختم ہو جاتا ہے۔یہ اوپر کی آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان سے یہ نتائج نکلتے ہیں کہ : - (۱) انسان مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھوں سے پیدا کیا گیا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ انسان کی پیدائش ارتقاء سے ہوئی ہے یہ نہیں ہوا کہ وہ یکدم پیدا ہو گیا۔(۳) تیسرے یہ کہ انسان ، انسان کی حیثیت سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔یہ خیال صحیح نہیں کہ بندروں کی کسی قسم سے ترقی کر کے انسان بنا جیسا کہ ڈارون کہتا ہے۔