انوارالعلوم (جلد 15) — Page 259
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) لفظ ازواج کی تشریح یہاں ازواج کے معنے مرد عورت کے نہیں کیونکہ پہلے نطفے کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا اس نے تم کو ازواج بنایا اگر ازواج کے معنے مرد عورت کے ہی ہوں تو ان الفاظ کے الگ لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔ نطفہ کے ذکر میں ہی یہ بات آ سکتی تھی کیونکہ نطفہ سے اسی وقت پیدائش ہوتی ہے جب مرد عورت دونوں موجود ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے نطفہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ازواج سے مراد مرد و عورت نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آزدا جا سے مراد اقسام ہیں نہ کہ مرد و عورت ، ورنہ نطفہ تو ہوتا ہی زوج کے وقت سے ہے اور اس کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ زوج کے معنے عربی زبان میں صنف کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنے اس جگہ مراد ہیں ، پس آزرا جا سے مراد أَصْنَافًا ہیں نہ کہ مرد و عورت اور مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری دماغی ترقی ہوئی تو تم میں مختلف قسم کے گروہ پیدا ہو گئے اور پارٹیاں بنی شروع ہو گئیں غرض اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ پہلے انسان حرابی حالت میں تھا یعنی جمادی حالت میں پھر اس پر ایک زمانہ آیا (درمیانی زمانہ کا ذکر اس جگہ چھوڑ دیا ہے ) کہ وہ حیوانی صورت اختیار کر گیا اور مرد و عورت سے اس کی پیدائش ہونے لگی ( پھر درمیانی زمانہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے ) پھر وہ زمانہ آیا کہ وہ ترقی کر کے تمدنی صورت اختیار کر گیا اور باقاعدہ ایک نظام میں منسلک ہو گیا۔ اسی طرح درمیانی کڑیوں میں سے ایک کڑی طینی حالت بھی ہے جب کہ تراب سے پانی ملا ، چنانچہ حیات انسانی کا مادہ پانی ہونے کے متعلق فرماتا ہے و جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حي ، أفَلا يُؤْمِنُون ہے کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی ہے اگر پانی نہ ہوتا تو حیات انسانی کا مادہ بھی پیدا نہ ہوتا، پھر یہ کڑی کہ پانی مٹی سے ملا اور اس سے پیدائش ہوئی اس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَا خَلَقَ الْإِنْسَانِ مِن طِین " کہ خدا نے انسان کو طین سے پیدا کیا۔ گویا پانی اور مٹی باہم ملائے گئے اور ان دونوں کے ملانے سے جو حالت پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں زندگی کا ذرہ پیدا ہوا اور ترقی کرتے کرتے انسان اپنے معراج کمال کو پہنچ گیا۔ اس بات کا ثبوت کہ کڑیاں درمیان سے حذف بھی کر دی جاتی ہیں اس بات سے ملتا ہے کہ ملتا