انوارالعلوم (جلد 15) — Page 253
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) (۱) ایک دور تو پتھروں کے استعمال کرنے کا تھا یعنی ابتداء میں جب انسان نے تہذیب و تمدن کے دور میں اپنا پہلا قدم رکھا ہے تو اُس وقت چونکہ یہ جانوروں سے ہی ترقی کر کے انسان بنا تھا اور اس کے پنجے نہیں تھے جن سے دوسرے جانور کام لے لیا کرتے ہیں اور نہ ان کی طرح اس کے تیز دانت تھے اس لئے اس نے اپنی حفاظت کیلئے پتھروں کا استعمال شروع کر دیا۔پس پہلا دور انسانی تہذیب پر پتھروں کے استعمال کا آیا ہے۔(۲) پھر پیتل کے استعمال کا دور آیا۔یعنی جب انسان نے اور زیادہ ترقی کی تو اس نے اپنی حفاظت کے لئے ڈھالیں وغیرہ بنالیں۔(۳) اور تیسرا دور لوہے کے استعمال کرنے کا تھا جب کہ انسان نے اپنی حفاظت کے لئے نیزے اور تلوار میں وغیر ہ ایجاد کیں۔آثار قدیمہ والوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ پُرانی عمارتوں کے کھودنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان قدیم زمانہ سے کسی نہ کسی تہذیب کا حامل ضرور رہا ہے۔پیدائش انسانی کے متعلق قرآنی نظریہ اب میں آن آثار قدیمہ کو پیش کرتا ہوں جنہیں قرآن کریم نے انسان کی پیدائش اور اس کی تہذیب کے بارہ میں پیش کیا۔پہلا حوالہ اس بارہ میں سورۃ نوح کا ہے جہاں آثار قدیمہ کی کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ما لَكُمْ لا ترجون لله وقارا - وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوَات طِبَاقًا وَجَعَلَ القَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا والله البتكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَانًا - ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا - ش موجودہ زمانہ میں جو تحقیق انسانی پیدائش کے متعلق کی گئی ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کی جو تحقیق ہے اس کا کچھ ذکر ان آیات میں ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ اے انسا نو ! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ بے حکمت کام نہیں کیا کرتا اور جب بھی وہ کوئی کام کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے تم اپنے متعلق تو یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص تمہیں یہ کہے کہ تم نے فلاں کام بیوقوفی کا کیا اور اگر کوئی کہے تو اس پر بُرا مناتے ہو مگر تم خدا کے متعلق یہ کہتے رہتے ہو کہ اُس نے انسان کو بغیر