انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 249

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) فضا میں رکھا کہ زمین پر روشنی بخشیں اور دن پر اور رات پر حکومت کریں اور اُجالے کو اندھیرے سے جدا کریں اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے سوشام اور صبح چوتھا دن ہو ا ہے گویا تو رات کے بیان کے مطابق رات دن پہلے بنے ہیں مگر سورج چاند بعد میں بنے ہیں، اسی طرح گھاس، نباتات اور درخت پہلے اُگے ہیں مگر سورج وغیرہ جن کی عاعوں کی مدد سے یہ چیزیں اُگتی ہیں بعد میں بنائے گئے ہیں، کیونکہ لکھا ہے کہ جب گھاس اُگ چکا ، میوہ دار درخت تیار ہو چکے، نباتات ظاہر ہو گئی رات دن بن گئے تو اس کے بعد خدا نے دو بڑے نور بنائے۔ایک نیر اعظم جو دن پر حکومت کرے اور ایک نیر اصغر جورات پر حکومت کرے) تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں کہ وے سمندر کی مچھلیوں پر اور آسمان کے پرندوں پر اور مویشیوں پر اور تمام زمین پر اور سب کیڑے مکوڑوں پر جو زمین پر رینگتے ہیں سرداری کریں اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔خدا کی صورت پر اس کو پیدا کیا ،نرو ناری ان کو پیدا کیا اور خدا نے ان کو برکت دی اور خدا نے انہیں کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو اور اس کو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں پر اور آسمان کے پرندوں پر اور سب چرندوں پر جو زمین پر چلتے ہیں سرداری کروس اور خداوند خدا نے عدن میں پورب کی طرف ایک باغ لگایا اور آدم کو جسے اُس نے بنایا تھا وہاں رکھا اور خدا وند خدا نے آدم کو حکم دے کر کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا کر لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا کیونکہ جس دن تو اس سے کھائے گا تو ضرور مرے گا اور خداوند خدا نے کہا کہ اچھا نہیں کہ آدم اکیلا رہے میں اس کے لئے ایک ساتھی اس کی مانند بناؤں گا اور خداوند خدا نے میدان کے ہر ایک جانور اور آسمان کے پرندوں کو زمین سے بنا کر آدم کے پاس پہنچایا تا کہ دیکھے کہ وہ ان کے کیا نام رکھے سو جو آدم نے ہر ایک جانور کو کہا وہی اُس کا نام ٹھہرا اور آدم نے سب مویشیوں اور آسمان کے پرندوں اور ہر ایک جنگلی جانور کا نام رکھا۔پر آدم کو اس کی مانند کوئی ساتھی نہ ملا اور خداوند خدا نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اُس نے