انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 239

انوارالعلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ہیں مگر جہاں ٹھہرتے ہیں وہاں ہزاروں مسجدیں بنا دیتے ہیں تاکہ نماز با جماعت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔اسی طرح آگرہ اسلامی دنیا کے عظیم الشان آثار کا مقام ہے۔وہاں کا تاج محل دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے ، وہاں کا قلعہ فتح پور سیکری اور سلیم چشتی صاحب جو خواجہ فرید الدین صاحب گنج شکر پاکپٹن کی اولاد میں سے تھے ان کا مقبرہ عالم ماضی کی کیف انگیز یادگاریں ہیں۔میں نے ان میں سے ایک ایک چیز دیکھی اور جہاں ہمیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ اسلامی بادشاہ نہایت شوکت اور عظمت کے ساتھ دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں وہاں یہ دیکھ کر رنج اور افسوس بھی ہوا کہ آج مسلمان ذلیل ہورہے ہیں اور کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں، فتح پور سیکری کا قلعہ در حقیقت مغلیہ خاندان کے عروج کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔چند سال کے اندراندرا کبر کا اس قدر ز بر دست قلعہ اور شہر تیار کر دینا جس کے آثار کو اب تک امتدادِ زمانہ نہیں مٹا سکا بہت بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی پر دلالت کرتا ہے۔یہ اتنا وسیع قلعہ ہے کہ دُور بین سے ہی اس کی حدوں کو دیکھا جا سکتا ہے خالی نظر سے انسان اس کی حدوں کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا اور اب تک اس کے بعض حصے بڑے محفوظ اور عمدگی سے قائم ہیں۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کو بہت بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی حاصل تھی ورنہ چند سالوں کے اندراندر اکبر اس قدر وسیع شہر اور اتنا وسیع قلعہ ہرگز نہ بنا سکتا۔مغلیہ خاندان کے جو قلعے میں نے دیکھے ہیں ان میں سے درحقیقت یہی قلعہ کہلانے کا مستحق ہے ورنہ آگرہ کا قلعہ اور دہلی کا قلعہ صرف محل ہیں قلعہ کا نام انہیں اعزازی طور پر دیا گیا ہے۔قلعہ کی اغراض کو دکن کے قلعے زیادہ پورا کرتے ہیں اور یا پھر فتح پور سیکری کے قلعہ میں جنگی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔دہلی میں میں نے جامع مسجد دیکھی ، دہلی کا قلعہ دیکھا ، خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کا مقام دیکھا، منصور اور ہمایوں کے مقابر دیکھے ، قطب صاحب کی لاٹ دیکھی ، حوض خاص دیکھا، پرانا قلعہ دیکھا ، جنتر منتر دیکھا، تغلق آباد اور اوکھلا بند دیکھا۔ہم نے ان سب چیزوں کو دیکھا اور عبرت حاصل کی ، اچھے کاموں کی تعریف کی اور لغو کاموں پر افسوس کا اظہار کیا۔مسلمانوں کی ترقی کا خیال کر کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا تھا اور ان کی تباہی دیکھ کر رنج اور افسوس پیدا ہوتا تھا۔جن لوگوں نے ہمت سے کام لیا ان کیلئے دل سے آفرین نکلتی تھی اور جنہوں نے آثار قدیمہ کی تحقیق کی بعض گڑی ہوئی عمارتوں کو کھودا، پرانے سکوں کو نکالا اور جو آثار ملے انہیں محفوظ کر دیا ان کے کاموں کی ہم