انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 240

انوارالعلوم جلد ۱۵ تعریف کرتے تھے۔سیر روحانی تقریر (۱) ان میں سے بعض مقامات میرے پہلے بھی دیکھے ہوئے تھے جیسے دہلی اور آگرہ کے تاریخی مقامات ہیں مگر بعض اس دفعہ نئے دیکھے اور ہر ایک مقام سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہم نے لطف اُٹھایا۔میں نے اپنے ظرف کے مطابق، میرے ساتھیوں نے اپنے ظرف کے مطابق اور مستورات نے اپنے ظرف کے مطابق۔عبرتناک نظارہ ہوں تو ہر جگہ میری طبیعت ان نشانات کو دیکھ دیکھ کر ماضی میں گم ہو جاتی تھی۔میں مسلمانوں کے ماضی کو دیکھتا اور حیران رہ جاتا تھا کہ انہوں نے کتنے بڑے بڑے قلعے بنائے اور وہ کس طرح ان قلعوں پر کھڑے ہو کر دنیا کو چیلنج کیا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو ہمارا مقابلہ کر سکے۔مگر آج مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔پھر میں ان کے حال کو دیکھتا اور افسردہ ہو جاتا تھا، لیکن تغلق آباد کے قلعہ کو دیکھ کر جو کیفیت میرے قلب کی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔یہ قلعہ غیاث الدین تغلق کا بنایا ہوا ہے اور اس کے پاس ہی غیاث الدین تغلق کا مقبرہ بھی ہے۔یہ قلعہ ایک بلند جگہ پر واقع ہے، خاصہ اوپر چڑھ کر اس میں داخل ہونا پڑتا ہے جہاں تک ٹوٹے پھوٹے آثار سے میں سمجھ سکا ہوں اس کی تین فصیلیں ہیں اور ہر فصیل کے بعد زمین اور اونچی ہو جاتی ہے جب ہم اس پر چڑھے تو میرے ساتھ میری بڑی ہمشیرہ بھی تھیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ ” نواب مبارکہ بیگملے ، اسی طرح میری چھوٹی بیوی اور امتہ الحی مرحومہ کے بطن سے جو میری بڑی لڑکی ہے وہ بھی میرے ہمراہ تھیں ہمشیرہ تو تھک کر پیچھے رہ گئیں ، مگر میں ، میری ہمرا ہی بیوی اور لڑکی ہم تینوں اوپر چڑھے اور آخر ایک عمارت کی زمین پر پہنچے جو ایک بلند ٹیکرے پر بنی ہوئی تھی۔یہاں سے ساری دہلی نظر آتی تھی ، اس کا قطب اس کا پُرانا قلعہ ، نئی اور پرانی دہلی اور ہزاروں عمارات اور کھنڈر چاروں طرف سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہے تھے اور قلعہ ان کی طرف گھور رہا تھا۔میں اس جگہ پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور پہلے تو اس عبرتناک نظارہ پر غور کرتا رہا کہ یہ بلند ترین عمارت جو تمام دہلی پر بطور پہرہ دار کھڑی ہے اس کے بنانے والے کہاں چلے گئے ، وہ کس قد را ولو العزم ، کس قدر با ہمت اور کس قدر طاقت وقوت رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوں نے ایسی عظیم الشان یادگاریں قائم کیں، وہ کس شان کے ساتھ ہندوستان میں آئے اور کس شان کے ساتھ یہاں مرے ، مگر آج ان کی اولادوں کا کیا حال ہے، کوئی ان میں سے بڑھتی ہے، کوئی لوہار ہے ، کوئی معمار ہے،