انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 233

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمد یہ کوئی نیا دین نہیں لائے صلى الله عروسه یہ ایسی ہی بات ہے جیسے بادشاہ چلتا ہے تو ساتھ ہی پہریدار بھی چلنے لگ جاتا ہے جب بادشاہ ٹھہرتا ہے تو پہرہ دار بھی رک جاتا ہے اب اگر کوئی کہے کہ یہ پہرہ دار کیسا گستاخ ہے ابھی تھوڑی دیر ہوئی جہاں بادشاہ کھڑا تھا وہاں اب یہ بھی کھڑا ہے تو وہ جاہل اور احمق ہی کہلائے گا ۔ اسی طرح محمد رسول الله علی تو ہر گھڑی آگے بڑھ رہے ہیں اور آپ کے آگے بڑھنے کی بڑھنے کی وجہ سے ہی آپ کے امتیوں کو ترقی ہوتی ہے مگر یہ شور مچاتے چلے جاتے ہیں کہ لہ حضرت مرزا صاحب کے دعوی نبوت سے شرک فی النبوۃ ہو گیا ۔ تو ختم نبوت کا مسئلہ کوئی ایسا مشکل نہیں مگر لوگوں نے خواہ مخواہ اس میں الجھن ڈال رکھی ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اتنا بلند ہے کہ کوئی انسان وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ہاں آپ کی فرمانبرداری ، آپ کی غلامی اور آپ کی کامل اتباع میں اگر کوئی شخص نبوت کا مقام حاصل کر لے تو اس میں آپ کی ہتک نہیں کیونکہ وہ بہر حال رسول کریم ﷺ کا غلام ہوگا ۔ پس یہ مسائل ایسے نہیں کہ جن میں کوئی پیچیدگی ہو۔ سیدھی سادی باتیں ہیں لیکن اگر یہ باتیں بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئیں تو وہ ایک موٹی بات دیکھ لے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کو عزت اور شان و شوکت حاصل ہے یا وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ اگر اسلام اس وقت اسی شان اور اسی شوکت کے ساتھ قائم ہے جس شان اور شوکت کے ساتھ وہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قائم تھا تو بیشک علاج کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر یہ دکھائی دے رہا ہو کہ مسلمان قرآن سے بے بہرہ ہیں ، اس کی تعلیم سے غافل ہیں ، بادشاہتیں مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہیں، حکومتیں ضائع ہو گئیں تو ہر شخص اپنے دل میں خود ہی سوچے اور غور کرے کہ خدا نے اس وقت رسول کریم ﷺ کی عزت کو بلند کرنے کا کیا سامان کیا ہے۔ وہ اسلام جو رسول اسلام جو رسول کریم علی کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا اس پر حملے پر حملے ہو رہے ہیں مگر مسلمان کہتے ہیں کہ اس کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ خدا اگر کہے کہ میں کسی کو اصلاح کیلئے بھیجتا ہوں تو یہ مولوی کہنے لگ جاتے ہیں کہ نہ نہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں ۔ پس اگر اسلام اچھی حالت میں ہے تو بے شک کہہ دو کہ حضرت مرزا صاحب نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے تھے لیکن اگر قرآن کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ چکی ہے۔ اسلام سے وہ غافل ہو گئے ہیں اور عملی حالتوں میں وہ بالکل سُست ہو گئے ۔ تو پھر ماننا پڑے گا کہ آپ سچے تھے اور آپ نے عین وقت پر آ کر اسلام کو دشمنوں کے نرغہ سے بچایا۔ ورنہ اگر اس زمانہ میں بھی اسلام کی مدد کیلئے خدا تعالیٰ نے توجہ نہیں کی تو وہ کب کرے گا ۔ آج خود مسلمان کہلانے والے اسلامی تعلیموں پر عمل چھوڑ چکے ہیں اور وہ خدا کا محبوب صلى الله