انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 232

انوار العلوم جلد ۱۵۔بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے اور آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا ان مقامات سے گزرتا جائے گا جن مقامات سے آپ گزر چکے ہیں لیکن آپ کا پیرو اور نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے وہ کبھی آپ کے برابر نہیں ہوسکتا اور نہ آپ سے آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ آپ کے درجات میں ہر لمحہ ترقی ہو رہی ہے اور آپ کا متبع اور پیر و جتنا بھی آگے بڑھے گا وہ بہر حال آپ کے پیچھے ہی رہے گا اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نے یہ مقام آپ کی کامل پیروی سے حاصل کیا ہے۔یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں بیان فرمایا : - ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رُسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے یعنی اے محمد رسول اللہ علیہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو نبی کس طرح ہو گیا میں تو نبی اس لئے ہوا کہ تو خیر رسل ہے تو جتنا جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا اتنا میں بھی بڑھتا چلا جاتا ہوں۔پس تو آگے ہے اور میں پیچھے۔مگر مولوی کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہو گیا۔حالانکہ یہ شرک کس طرح ہو گیا۔جب کہ تیرے مقام کو میں حاصل ہی نہیں کر سکتا اور جبکہ میری ترقی تیری ترقی پر منحصر ہے۔پس رسول کریم ﷺ تو ہر روز بلکہ ہر لمحہ اپنے درجہ میں بڑھ رہے ہیں مگر یہ مخالف و ہیں ہاتھ مار رہے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی اندھا کسی دعوت میں شریک ہوا ، اس کے ساتھ ایک سو جا کھا بیٹھ گیا اندھے نے خیال کیا کہ یہ تو سو جا کھا ہے اور میں اندھا یہ ضرور زیادہ کھا جائے گا۔چنانچہ اس نے بھی جلدی جلدی لقمے لینے شروع کر لئے تھوڑی دیر کے بعد اس نے خیال کیا کہ میری یہ حرکت تو اس نے دیکھ لی ہوگی اور ضرور اس نے بھی اس کا کوئی علاج تجویز کر لیا ہوگا چنانچہ یہ خیال آنے پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اُٹھا اُٹھا کر اپنی جھولی میں ڈالنے شروع کر دیئے اب دوسرا شخص اس اندھے کی یہ حرکت دیکھ کر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا اور بجائے کچھ کھانے کے وہ اس اندھے کی حرکات کو دیکھ رہا تھا۔مگر اس اندھے نے سمجھا کہ اس نے ضرور اب کوئی اور تجویز زیادہ کھانے کی سوچ لی ہو گی۔یہ خیال آتے ہی اس نے تھالی پر ہاتھ مار کر اسے اٹھا لیا اور کہنے لگا بس اب میرا ہی حصہ ہے۔یہی ان لوگوں کی حالت ہے نہ حقیقت کو سوچتے ہیں نہ اصلیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔رسول کریم تو کہیں پہنچ گئے اور یہ بیٹھے کہہ رہے ہیں کہ شرک فی النبوۃ ہو گیا ،شرک فی النبوۃ ہو گیا حالانکہ