انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 224

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے میری موت کے بعد ہوا زندگی میں نہیں ہوا۔اب دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔یا تو حضرت عیسی علیہ السلام ابھی تک نہیں مرے اور نہ عیسائی بگڑے ہیں اور یا حضرت عیسی علیہ السلام واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں اور عیسائیوں کے عقائد میں بگاڑ ان کی وفات کے بعد ہوا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے اس بات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ ان دو باتوں میں سے ایک بات کا فیصلہ کرو۔تم یہ بتاؤ کہ عیسائی بگڑے ہیں یا نہیں اگر عیسائی نہیں بگڑے اور وہ حق پر ہیں تو تمہارا بھی فرض ہے کہ تم عیسائی ہو جاؤ کیونکہ وہ تو بقول تمہارے راہ راست پر قائم ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام اسی صورت میں زندہ ہو سکتے ہیں جب عیسائی بگڑے نہ ہوں۔پس مسلمان اب فیصلہ کر لیں کہ عیسائی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں اگر وہ بگڑے ہوئے نہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خود بھی عیسائی ہو جائیں اور اگر وہ بگڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو لازماً یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں کیونکہ قرآن یہی کہتا ہے کہ عیسائیوں میں یہ خیال کہ حضرت مسیح اور مریم صدیقہ خدا ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد پیدا ہوا ان کی زندگی میں پیدا نہیں ہوا۔گویا وہ لوگ جو حضرت عیسی کو زندہ سمجھتے ہیں، انہیں ماننا پڑے گا کہ عیسائی حق پر ہیں اور انہیں اسلام سے مرتد ہونا پڑے گا پس ایک مسلمان کیلئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ مانے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دے اور عیسائی ہو جائے کیونکہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو عیسائی بگڑ ہی نہیں سکتے ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی موت کے بعد مقدر ہے۔یہ ایسی موٹی بات ہے کہ اس میں کسی لمبے چوڑے جھگڑے کی ضرورت ہی نہیں۔سیدھی سادی بات ہے کہ حضرت مسیح کہتے ہیں اے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس کے بعد عیسائی بگڑے ہیں پہلے نہیں۔اب اگر عیسائی بگڑ چکے ہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اور اگر عیسائی نہیں بگڑے تو بے شک کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں مگر اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کے پسندیدہ بندے مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہیں۔پھر یہ جو بات تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے واپس آنے میں رسول کریم ﷺ کی عزت ہے یا ذلّت۔اس نقطہ نگاہ سے بھی اگر غور کیا جائے تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے بلکہ رسول کریم ﷺ کی عزت کا سوال ہی نہیں اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے خدا تعالیٰ کی عزت ہو تب بھی ہم ان کے دوبارہ آنے کو تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خدا