انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 222

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے سے چھ سو سال پہلے دنیا میں آیا ہے۔پس جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح ابن مریم نے ہی آسمان سے نازل ہونا اور اسی نے اصلاح خلق کا کام کرنا ہے تو تم جو پنجاب میں رہتے ہو اور پنجاب کی ایک بستی قادیان میں پیدا ہوئے ہو کس طرح مسیح موعود ہو سکتے ہوا اور جب تم کہتے ہو کہ تم مسیح موعود ہو تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔یا تو تم پاگل ہو اور یا لوگوں کو جان بوجھ کر دھوکا اور فریب دیتے ہو۔یہ اعتراض تھا جو لوگوں نے آپ کے دعوئی پر کیا۔آپ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہوتا تو بے شک تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ اُٹھ سکتا تھا کہ جب اس نے دنیا میں ابھی آنا ہے تو اس کی جگہ کوئی اور شخص کس طرح کھڑا ہو گیا ہے یا اگر مسیح ابن مریم کے آنے میں رسول کریم ﷺ کی عزت ہوتی اور مسیح کی بھی عزت ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ خدا نے اور رسولوں کی عزت دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے مسیح ابن مریم کو ہی دوبارہ بھیج دیا۔مگر حق بات یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بتایا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں اور ان کی وفات قرآن کریم سے ثابت ہے۔پس ان کے وفات پا جانے کی وجہ سے اب ان کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ دوبارہ اس دنیا میں آ سکتے ہیں۔چنانچہ آپ نے اس کی ایک موٹی دلیل یہ دی کہ سورہ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں مسیح ابن مریم سے دریافت کروں گا کہ تجھ کو اور تیری ماں کو جو دنیا میں خدا بنایا گیا ہے تو کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا مانو اور ہماری پرستش کر و۔آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعض ایسے فرقے بھی تھے جو حضرت مریم صدیقہ کی خدائی کے قائل تھے اور عملاً تو رومن کیتھولک والے اب بھی حضرت مریم کی تصویر کے آگے سجدہ کرتے اور ان سے دعائیں کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم قیامت کے دن پوچھیں گے کہ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بناؤ۔اس کا حضرت مسیح علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ الہی یہ بات بالکل غلط ہے۔جب تک میں ان لوگوں کے درمیان زندہ رہا اس وقت تک تو وہ تو حید کے ہی قائل رہے تھے اور انہوں نے ہرگز شرک کا عقیدہ اختیار نہیں کیا تھا مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر میرا لوگوں سے کیا واسطہ رہا پھر تو ہی ان کا نگران تھا مجھے تو کچھ علم نہیں کہ انہوں نے میرے بعد کیا کیا۔یہ جواب ہے جو قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کو دیں گے اور قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے حضرت مرزا صاحب نے اس سے