انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 210

انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو میں پچاس روپے قرض لئے مگر اس قرضہ کے سُود در سود کے نتیجہ میں وہ لاکھوں کا مقروض ہو گیا۔اسی طرح شہری لوگ بھی حد سے زیادہ اسراف کرتے ہیں۔میں نے کئی مرتبہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور آج پھر تمہاری توجہ اس طرف مبذول کرتا ہوں کہ بجائے قرضہ اٹھانے کے تم کیوں نہیں یہ کرتیں کہ پہلے بچالیا کرو تا تمہیں قرضہ لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے تم کہہ سکتی ہو کہ ہمارے پاس بچانے کیلئے کچھ نہیں لیکن کیا جب تمہارے پاس کھانا کھانے کو چند پیسے نہیں ہوتے تو تم فاقہ کرتی ہو۔نہیں بلکہ قرضہ لیتی ہو اور کھانے کا سامان کرتی ہو۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم فاقے کرو تا آئندہ تمہاری اولادیں تمہارے لئے دعا کریں۔ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور جمع کر سکتا ہے۔اگر تم بھی کچھ نہ کچھ پس انداز کرتی جاؤ گی تو تمہارا خاوند بنیے کے پاس نہیں جائے گا۔آخر خود ہی سوچو کہ تم کس لئے اپنی اولادوں کو مقروض بناتی ہو چار پانچ روپے کیلئے ؟ اور اس معمولی سی رقم کی وجہ سے تمہاری اولاد میں اپنی ساری عمر غلامی میں بسر کرتی ہیں اور کہتی رہتی ہیں کہ خدارحم کرے ہمارے دادا پر کہ اس نے دس ہزار روپیہ ہمارے سر چڑھا دیا اور ساری عمر کیلئے بنے کا غلام بنا دیا۔اگر ان کی مائیں تھوڑا تھوڑا بھی جمع کرتی رہتیں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتیں اور قرضہ نہ لیتیں تو غلامی سے نجات ہو جاتی۔کفایت شعاری کسی قوم کے افراد کا پہلا اور اہم فرض ہے۔اور کفایت شعاری ہی وہ اصل ہے جس پر عمل کر کے کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے۔تم اپنے خاوندوں کو اسراف سے روکو اور اپنے بچوں کو غلامی سے بچاؤ۔پس کچھ نہ کچھ پس انداز کرتے رہنا چاہئے اور کھانے اور پینے میں سادگی اختیار کرنی چاہئے۔ایک کھانا کھانے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ امیر اور غریب آپس میں مل بیٹھیں گے اور امارت و غربت کا امتیاز مٹ جائے گا۔دوسرا اس کا یہ فائدہ ہے کہ ایک کھانا کھانے سے انسان کی صحت اچھی رہتی ہے۔زیادہ کھانا کھانے سے ایک یہ نقصان ہوتا ہے کہ معدے کمزور ہو جاتے ہیں۔پیچش اور کسان کی شکایت رہتی ہے۔ایسے لوگ نہ تو نماز پڑھ سکتے ہیں نہ روزہ رکھ سکتے ہیں۔کھانوں کے شوقین نمازوں میں بھی مرغن کباب اور متنجن کے خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں۔مگر اس کے مقابلہ میں سادہ زندگی میں ایسی لذت ہے کہ عبادتوں میں بھی ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ایک صوفی صاحب سے جب پوچھا گیا کہ خدا کس طرح مل سکتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ کم کھانے ، کم سونے اور کم بولنے سے۔یہ تین چیزیں خدا سے ملاتی ہیں۔پس تحریک جدید جو