انوارالعلوم (جلد 15) — Page 209
انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو باپ مارا گیا۔اس عورت نے پھر بھی پرواہ نہ کی اور پوچھا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر دو لیکن اس سپاہی نے اس کے کرب و بیقراری کا صحیح علم نہ رکھتے ہوئے اس کے بھائی کے متعلق کہا کہ وہ بھی مارا گیا ہے لیکن پھر اس عورت نے غصہ کے ساتھ بڑے زور سے پوچھا کہ میں تو رسول کریم ﷺ کا حال تم سے پوچھ رہی ہوں اپنے باپ یا بھائی یا خاوند کا نہیں پوچھ رہی۔تو پھر سپاہی نے جواب دیا کہ رسول اللہ تو خیریت سے ہیں۔یہ خبر پا کر اس عورت کے دل میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور بے اختیار کہنے لگی الْحَمْدُ لِلَّهِ اللہ تعالیٰ کا رسول خیریت سے ہے۔دوسرے مارے گئے تو کوئی پرواہ نہیں۔سے پس سوچو کہ اس عورت کے بھائی، باپ اور خاوند کیوں میدانِ جنگ میں گئے اس لئے کہ اس کا خاوند جانتا تھا کہ اگر میں مارا گیا تو میری بیوی کو میری وفات کا کوئی صدمہ نہ ہوگا۔اس کے بھائی یہ سمجھتے تھے کہ ہماری بہن ہماری شکست پر زندہ درگور ہو گی۔مگر تمہارے بچوں کے دل کیوں ڈرتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ہماری ماں جاتے وقت روتی ہے۔اس طرح وہ بُزدل ہو جاتے ہیں۔پس تم اسلام کی ایک عظیم الشان خدمت کر سکتی ہوا گر تم اپنے بیٹوں کو ابو بکر یا عمر بنا دوگی۔اور یقیناً جو مقام تمہارے بیٹے کو ملے گا وہی تمہیں ملے گا۔اس کے بعد میں تحریک جدید کی طرف عورتوں کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں۔اس میں جو بات عورتوں کے ساتھ خاص طور پر تعلق رکھتی ہے وہ سادہ زندگی ہے۔یعنی لباس ، زیور اور کھانے پینے میں سادگی۔اس وقت ہندوستانیوں کی حالت نہایت گری ہوئی ہے۔سارے ملکوں کی دولت یورپ میں جا رہی ہے۔مسلمان بھی نہایت ذلت کی حالت میں ہیں۔ایک ہندوستانی کی ایک ادنیٰ سے ادنی انگریز کے سامنے کوئی ہستی ہی نہیں۔ایک انگریز چو ہڑا ہی اگر ہندوستان میں آ جائے تو وہ عزت والا ہوتا ہے مگر ہندوستانی کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔یہ اس لئے کہ انگریر حاکم ہے اور ہندوستانی محکوم۔اسی وجہ سے ہمارا ملک روز بروز کمزور ہو رہا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ بھی اپنی حالت کو آپ خراب کر رہے ہیں۔وہ اپنے زیور اور مال و دولت سے ہی اپنے ملک کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔زمیندارلوگوں میں بے شک سادگی ہے مگر وہ اپنے بیا ہوں شادیوں پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ساری عمر اس کے سُود سے نجات نہیں پاسکتے۔ہمارے سامنے اس قسم کی زندہ مثال فیروز پور کے ایک شخص کی ہے جس نے شروع