انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 206

انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو یہ ضروری نہیں کہ عملی طور پر ہی بدیاں اور بری باتیں مائیں اپنے بچوں کو سکھائیں بلکہ بے پروائی اور بے تو جہی سے جو بدیاں بچے میں پیدا ہو جائیں یا جو بُری عادتیں وہ سیکھ لیتا ہے اس کی ذمہ داری بھی عورتوں پر ہی آتی ہے۔تم میں سے بہت ہیں جو یہ کہیں گی کہ میرا بچہ بے شک کلمہ نہ پڑھے لیکن زندہ رہے لیکن تم میں سے کتنی ہیں جو یہ کہیں کہ میرا بچہ کلمہ پڑھ لے پھر بے شک مر جائے۔ایک عورت اپنے بیمار بچہ کولیکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بچہ عیسائی ہو گیا ہے آپ اس کا علاج کریں لیکن جو بات وہ اصرار کے ساتھ کہتی تھی وہ یہ تھی کہ آپ اس سے ایک دفعہ کلمہ پڑھوا دیں پھر بے شک یہ مرجائے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لڑکے کو چونکہ وہ بیمار تھا حضرت خلیفہ اول کے پاس بھیجا تا آپ اس کی بیماری کا علاج بھی کریں اور کچھ تبلیغ بھی کریں لیکن وہ لڑکا بھی بڑا پختہ تھا، وہ کلمہ پڑھنے سے بچنے کی خاطر ایک رات بھاگ کر چلا گیا۔رات کو ہی اس کی ماں کو بھی پتہ چل گیا وہ بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑی اور بٹالہ کے نزدیک سے اسے پکڑ کر پھر واپس لائی۔آخر خدا نے اس کی سنی اس کا بیٹا ایمان لے آیا۔بعد میں گو وہ فوت بھی جلد ہو گیا مگر اس عورت نے کہا آب میرے دل کو ٹھنڈک پڑ گئی ہے موت سے پہلے اس نے کلمہ تو پڑھ لیا ہے۔یہ ہوتی ہے صحیح تربیت اور یہ ہوتی ہے وہ روح جو اسلام عورت میں پھونکنا چاہتا ہے۔اس قسم کی تربیت کرنے والی عورتیں جو اپنے بچوں کو نیک اور تربیت یافتہ دیکھنا پسند کرتی ہیں، وہ اپنے لئے ہی نہیں بلکہ ساری قوم کیلئے فائدہ مند ہوتی ہیں۔وہ ساری قوم کو زندہ کرنے والی ہوتی ہیں۔امام بخاری بہت بڑے آدمی تھے ، ان کے بڑے آدمی ہونے میں ان کی ماں کا بہت بڑا حصہ تھا۔تو کیا تم سمجھتی ہو کہ ایسی ماں سے فائدہ اُٹھانے والے کا ثواب اُن کی ماں کو نہ ملتا تھا ؟ نہیں امام بخاری کی نیکیوں کے ثواب میں ان کی ماں بہت حد تک حصہ دار تھیں۔اسی طرح حضرت امام ابو حنیفہ کی والدہ تم نہیں کہہ سکتیں کہ معمولی عورت تھیں۔وہ ہرگز معمولی عورت نہ تھیں۔کیا ابو حنیفہ کو بنانے والی معمولی عورت ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی بڑے درجے کو پہنچے گا تو اس کے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کو اس کے ساتھ رکھا جائے گا اور وہ بھی اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے۔مؤمن کے بنانے میں اس کے ماں باپ کا حصہ ہوتا ہے۔ایک ہندو ماں کا یا ایک عیسائی ماں کا بچہ اگر مسلمان ہو جائے گا تو یہ مت خیال کرو کہ اس کی ماں کو ثواب نہ ملا ہو گا۔اگر چہ اس کی ماں پوری طرح نہ بخشی جائے لیکن پھر بھی اس کے گناہوں میں کمی ہو گی۔تم میں سے اکثر