انوارالعلوم (جلد 15) — Page 207
انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو جہاد کی خواہش مند ہیں لیکن آؤ میں تمہیں بتلا دوں کہ یہ جہاد ہی ہے اگر تم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کروگی اور ان کو نیک بناؤ گی۔تم اور حکومتوں میں تو کہہ سکتی ہو کہ اگر ہم بچوں کی خدمت میں لگی رہیں گی تو ہم تاجر کیسے بنیں گی ، اگر ان کی تربیت میں ہی لگی رہیں تو وزیر وکیل اور جرنیل وغیرہ کیسے بنیں گی اور دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتیں لیکن تم اسلام میں رہ کر یہ نہیں کہ سکتیں۔بے شک تم کو عیسائی قوم اس کا جواب نہیں دے سکتی لیکن اسلام نے تو تمہارا یہ اعتراض دور کر دیا۔اسلام کہتا ہے کہ اگر تمہارا بیٹا جرنیل بنے گا اور وزارت کے کام کر کے دنیا میں امن قائم کرے گا تو اس کا ثواب بھی تم کو ملے گا کیونکہ یہ تم ہی تھیں جس نے ایسا بیٹا بنایا جس نے دنیا میں کار ہائے نمایاں کئے۔غرض جس جنت کا تمہارا بیٹا وارث ہو گا اسی جنت کی اسلام نے تم کو حقدار ٹھہرایا ہے۔پس تمہاری تمام تر کامیابی کا انحصار تمہاری اولاد کی تربیت پر ہی ہے۔تم نماز و روزہ اور صدقہ و خیرات کی پابندر ہوا گر تم ان باتوں پر کار بند نہ ہوگی تو تمہاری اولادیں کس طرح احکام شریعت کی پابند ہوں گی۔تم اپنے نیک نمونہ سے ہی ایک حد تک اپنی اولاد کی تربیت کر سکتی ہو کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ انسان جونمونہ دکھاتا ہے اردگرد کے لوگ اس کا نمونہ قبول کرتے ہیں اور بچہ میں تو نقل کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔اگر مائیں اپنی اولادوں کیلئے نیک نمونہ نہیں بنتیں تو یقیناً ان کی اولادوں کی تربیت اچھی طرح ہونا ناممکن ہے۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے علم کی شرط مرد اور عورت کیلئے برابر رکھی ہے۔وہ تعلیم جو دنیا کی اغراض کیلئے حاصل کی جاتی ہے اس کا ثواب نہیں ملتا۔خدا تعالیٰ ان نیکیوں کا بدلہ دیتا ہے جن کا بدلہ اس دنیا میں نہیں ملتا۔مرد بے شک اکثر دنیا کے اغراض کیلئے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر ایسی تعلیم کا ان کو کوئی ثواب نہیں ملتا۔ہاں عورتوں کیلئے تعلیم مکمل کر کے ثواب حاصل کرنے کا زریں موقع ہے کیونکہ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں دنیا وی غرض کوئی نہیں بلکہ تعلیم کی غرض محض تعلیم ہی ہے اس لئے عورتیں تعلیم حاصل کر کے ثواب حاصل کر سکتی ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم روزے رکھتے ہو، تم نمازیں پڑھتے ہو لیکن اس دنیا میں تمہیں اس کا بدلہ نہیں ملتا اس لئے میں آخرت میں تم کو اس کا بدلہ دوں گا۔تم اپنے لڑکوں کو تعلیم دلواتے ہو، وہ پڑھ کر نوکر ہوتے ہیں تمہیں کھلاتے ہیں، پہناتے ہیں تو تم نے ان کو تعلیم دلوانے کا بدلہ پا لیا لیکن جولڑ کی کی تعلیم پر تم خرچ کرتی ہو اس کا ثواب تمہیں اس دنیا میں نہیں ملتا اس کیلئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ