انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 191

انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم کی تعریف کرتا ہوں جو تمام ملکوں کا رب ہے اور جب کہ میں تمام اقوام ، تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں حُسن تسلیم کروں گا تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں ان سے عداوت رکھ سکوں۔پس الْحَمْدُ لله رب العلمین میں بتادیا گیا ہے کہ اگر حقیقی تو حید قائم ہو اور رب العلمین کی حمد سے انسان کی زبان تر ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی قوم کا کینہ انسان کے دل میں رہے اور ایک طرف تو وہ ان کی بربادی کی خواہش رکھے اور دوسری طرف ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف بھی کرے۔دوسرا نکتہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ نازل فرمایا ہے کہ مالم ينزل به عَلَيْكُمْ سُلطنا، یعنی دنیا میں امن تبھی برباد ہوتا ہے جب انسان فطرتی مذہب کو چھوڑ کر رسم ورواج کے پیچھے چل پڑتا ہے اگر انسان طبعی اور فطرتی باتوں پر قائم رہے تو کبھی لڑائیاں اور جھگڑے نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسلام دین فطرت ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جو دینِ فطرت ہوگا وہی دنیا میں امن قائم کر سکے گا اور وہی مذہب امن پھیلا سکے گا جس کا ایک ایک ٹکڑہ انسان کے دماغ میں ہو۔آخر یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اُس تعلیم کی طرف بلائے جس کا جواب ہماری فطرت میں نہیں اور جس کی قبولیت کا مادہ پہلے سے خدا نے ہمارے دماغ اور ہمارے ذہن میں نہیں رکھا۔پس فرمایا مالم ينزل به عَلَيْكُمْ سُلْطنا، تم کہہ دو کہ تم ان تعلیموں کے پیچھے چل رہے ہو جو فطرت کے خلاف ہیں اور میں تم کو ان باتوں کی طرف بلاتا ہوں جو تمہاری فطرت میں داخل ہیں اب جوں جوں انسان اپنی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کرے گا اُس کا دل پکار اٹھے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ بالکل سچی ہے کیونکہ اس کا دوسرا نسخہ میرے ذہن میں بھی ہے۔اس طرح آہستہ آہستہ دنیا ایک مرکز پر آ جائے گی اور ایک ہی خیال پر متحد ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں امن قائم ہو جائے گا۔اب ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدرس امن ہیں ، بے شک آپ نے امن کا مدرسہ دنیا میں جاری کر دیا ، بے شک امن کا کورس خدا نے مقرر کر دیا، بے شک اسلام نے تعلیم وہ دی ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جسے دیکھ کر انسانی فطرت پکا راٹھتی ہے کہ واقعہ میں یہ صحیح تعلیم ہے مگر کیا لڑائی بالکل ہی بُری چیز ہے؟ قرآن کریم اس کا بھی جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ امن کے قیام کے لئے بعض دفعہ جنگ کی