انوارالعلوم (جلد 15) — Page 188
انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم ایک ایسی تعلیم لے کر آئے ہیں جو ساروں کیلئے ہی امن کا موجب ہے اور ہر شخص کیلئے وہ رحمت کا خزانہ اپنے اندر پوشیدہ رکھتی ہے مگر افسوس کہ لوگ اس کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس تعلیم کے خلاف لڑائیاں اور فساد کرتے ہیں جو ان کیلئے نوید اور خوشخبری ہے۔یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یہ کہنا پڑا کہ خدایا ! میں اپنی قوم کی طرف امن کا پیغام لے کر آیا تھا مگر ان هَؤُلاء قَوْم لَا يُؤْمِنُون یہ قوم جس کے لئے میں امن کا پیغام لایا تھا یہ تو مجھے بھی امن نہیں دے رہی۔امن کے معنی ایمان لانے کے بھی ہوتے ہیں اور امن کے معنی امن دینے کے بھی ہوتے ہیں۔فیلم يُرَبِّ اِنَّ هَؤُلاء قَوْمُ لاَ يُؤْمِنُون میں اسی امر کا ذکر ہے کہ ہمارا نبی ہم سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ خدایا! باوجود یکہ میں اپنی قوم کیلئے امن کا پیغام لایا تھا وہ اس کی قدر کرنے کی بجائے میری مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے میرے امن کو بالکل برباد کر دیا ہے۔مگر فرمایا قاضف عَنْهُمْ ہم نے اپنے نبی سے یہ کہا ہے کہ ابھی ان لوگوں کو تیری تعلیم کی عظمت معلوم نہیں اس لئے وہ غصہ میں آ جاتے اور تیری مخالفت پر کمر بستہ ط رہتے ہیں تو ان سے درگزر کر کیونکہ ہم نے تجھے امن کے قیام کیلئے ہی بھیجا ہے وقد سلم اور جب تجھ پر یہ حملہ کریں اور تجھے ماریں تو تو یہی کہتا رہ کہ میں تو تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں فَسَوْفَ يَعْلَمُون عنقریب دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دنیا کیلئے امن لایا تھا لڑائی نہیں لائے تھے۔گویا وہ امن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے وہ صرف مؤمنوں کیلئے ہی امن نہ رہا بلکہ سب کیلئے امن ہو گیا۔پھر صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی نہیں بلکہ عام مؤمنوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذا خَاطَبَهُمُ الجَهِلُونَ قَالُوا سلمان وہ جاہل جو اسلام کی غرض و غایت کو نہیں سمجھتے جب مسلمانوں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں تو مومن کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری سلامتی چاہتے ہیں چاہے تم ہما را بُرا ہی کیوں نہ چا ہو۔جب دشمن کہتا ہے کہ تم کیسے گندے عقائد دنیا میں رائج کر رہے ہو تو وہ کہتے ہیں یہ گندے عقائد اور بیہودہ باتیں نہیں بلکہ سلامتی کی باتیں ہیں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی سلامتی صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے ہی نہیں بلکہ مؤمنوں کیلئے بھی ہے اور صرف مؤمنوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے ہے۔پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ سلامتی عارضی ہے یا مستقل؟ کیونکہ یہ تو ہم نے مانا کہ ایک