انوارالعلوم (جلد 15) — Page 172
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب گیا تھا۔جب ملاقات کا وقت آیا تو میں نے اپنی سوئی نیچے رکھنی چاہی اس پر ایک سکھ نے جسے راجہ کا خطاب ملا ہوا تھا مجھے کہا کہ آپ بڑے آدمی ہیں اور پنجاب کے معزز خاندان سے ہیں آپ سوئی نہ رکھیں کیا ہوا اگر وہ شہزادہ ویلز ہے۔تو پنجاب میں کوئی بھی پرانا اور معزز خاندان ہمارے خاندان کی طرح نہیں مگر روپیہ ہمارے پاس نہیں۔پہلے ہمیں سکھوں نے گوٹا ، پھر انگریزوں نے لوٹا ، ان دونوٹوں کی وجہ سے ہماری دنیوی حیثیت کم ہو گئی اور ایک معمولی زمیندار کی حیثیت پر آگئے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف نہ لاتے تو ہماری ایک زمیندار سے زیادہ عزت نہ ہوتی۔پھر زمیندار بھی ایسا جس کی زمینیں نہری نہیں ہیں۔پس ان زمینوں کی قیمتیں صرف احمدیت کی وجہ سے بڑھیں اس کے بعد تم اس قابل ہوئے کہ تم اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکو اس لئے تم کسی احمدی کے ممنونِ احسان نہیں مگر احمدیت کے ضرور ممنونِ احسان ہو۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری گردنیں کسی انسان کے سامنے نہیں جھک سکتیں مگر تمہیں یہ بات ہمیشہ یادرکھنی چاہئے کہ یہ سب کچھ تمہیں احمدیت کی وجہ سے ملا ہے۔ایک اور بات جو یا درکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ تمہیں ہمیشہ غرباء سے ملتے رہنا چاہئے۔ہماری جماعت کا بڑا حصہ چونکہ غرباء پرمشتمل ہے اس لئے ان سے ملنا ضروری ہے اگر تم ان میں مل کر رہو اور ان کی تربیت کا کام کرو تو تم حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہو۔ایاز ایک مشہور جرنیل محمود غزنوی کا تھا لوگوں نے محمود کے پاس اُس کی شکایتیں کیں۔ایاز ایک غلام تھا مگر اس نے اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے ترقی کی اور بڑھتے بڑھتے جرنیل ہو گیا حتی کہ وہ فنانس منسٹر (وزیر خزانہ ) ہو گیا۔لوگوں کو کچھ حسد تھا اس لئے انہوں نے محمود کے پاس شکایتیں کیں کہ وہ رات کو ہمیشہ اکیلا خزانے میں جاتا ہے اور قیمتی اشیاء وہاں سے چرا لیتا ہے۔یہ شکایتیں محمود کے پاس اس کثرت سے پہنچیں کہ اُسے ایاز پر بدظنی ہوگئی۔ایک دن بادشاہ رات کے وقت خزانہ میں داخل ہو گیا اور باہر سے تالا لگوادیا اور ایک پوشیدہ جگہ پر چھپ کر بیٹھ گیا۔اس کے بعد ایاز آیا اور اندر داخل ہو گیا۔بادشاہ کی بدظنی اور بھی بڑھ گئی اور سمجھا کہ لوگوں کی شکایتیں صحیح ہیں مگر اس نے اپنے دل میں کہا کہ ابھی دیکھنا چاہئے کہ یہ کیا کرتا ہے۔ایاز نے ایک کنجی لی اور اس سے ایک ٹرنک کھولا ، پھر اس میں سے ایک اور صند و نچی نکالی اور اسے کھولا اور اس میں سے ایک بغچہ نکالا جس کے اندر ایک پھٹی ہوئی گدڑی تھی ، ایاز نے اپنا شاہی لباس اُتارا اور وہ گدڑی پہن لی۔اس کے بعد اس نے مصلی بچھایا اور نماز پڑھنی شروع کر دی اور اس نے نماز میں روروکر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ