انوارالعلوم (جلد 15) — Page 173
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب اے خدا! میں اس گدڑی میں اس شہر میں داخل ہوا تھا اور آج تو نے اپنے فضل سے مجھے وزارت کا عہدہ عطا فرمایا ہے اور اتنی عزت دی ہے کہ اس جگہ پر آنے سے مجھے محمود غزنوی کے سوا اور کوئی نہیں روک سکتا۔میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے اپنے فضل سے اس مقام پر پہنچایا ہے اور اے خدا ! تو مجھے اس بات کی بھی توفیق عطا فرما کہ جس بادشاہ نے مجھ پر اتنا رحم کیا ہے اُس کی دیانتداری سے خدمت کروں۔محمود نے جب ایاز کی یہ دعاسنی تو اس کے پاؤں سوسو من کے ہو گئے اور اُس نے دل میں کہا کہ میں نے کتنے قیمتی جو ہر پر بدظنی کی ہے۔ایاز نماز پڑھ کر اور گدڑی کو پھر اسی جگہ رکھ کر اور اپنا لباس پہن کر چلا گیا بعدازاں محمود وہاں سے اُٹھا اور واپس آیا اور اس نے پہرہ داروں کو کہا کہ خبردار میرے آنے کا ایاز کو علم نہ ہو مگر اس تمام تر خدمت کے باوجود ایاز غلام ہی کہلاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں تم اپنے آپ کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کسی بندے کا غلام ہونے سے بچا کر صرف اپنی غلامی بخشی۔یہ کتنا بڑا احسان ہے اللہ تعالیٰ کا۔اس کے بعد بھی اگر تم اپنے رب کو کوئی الگ وجود سمجھو تو تم سے زیادہ احمق اور جاہل کوئی نہیں ہو گا ہماری سب عزتیں احمدی ہونے کی وجہ سے ہیں اور کوئی امتیاز ہم میں نہیں بعض کاموں کی مجبوریوں کے لحاظ سے ایک افسر بنادیا جاتا ہے اور دوسرا ماتحت ور نہ حقیقی امتیاز ہم میں کوئی نہیں۔حقیقی بڑائی خدمت کرنے سے حاصل ہوتی ہے خاندان کی وجہ سے نہیں۔ہمارا خاندان دہلی کے شاہی خاندان سے بڑا نہیں گو ہم انہی میں سے ہی ہیں مگر وہ بہر حال بادشاہ تھے اور بادشاہ رُتبہ میں بڑے ہوتے ہیں مگر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ دہلی کے شہزادے بازاروں میں لوگوں کو حقہ پلاتے پھرتے ہیں اور بعض کی یہ حالت ہوتی ہے کہ مرجانے کی صورت میں ان کے لئے کفن بھی مہیا نہیں ہوتا۔ان کے ہمسائے گورنمنٹ کو لکھ دیتے ہیں کہ یہ فلاں بادشاہ کا پوتا بغیر کفن کے مرا پڑا ہے اس کیلئے کفن دیا جائے اور گورنمنٹ اس کیلئے کفن مہیا کر دیتی ہے۔یہ بڑائیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اور جب وہ چاہتا ہے چھین بھی لیتا ہے۔پس عزت کا جو چوغہ تم پہنو وہ دوسروں سے مانگا ہوا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سے ہونا یا میرا بیٹا ہونا یہ تو مانگا ہوا چوغہ ہے تمہارا فرض ہے کہ تم خود اپنے لئے لباس مہیا کرو۔وہ لباس جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یعنی لِبَاسُ التَّقْوى ذلك خير تقویٰ کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے۔غرض تم احمدیت کے خادم بنو پھر اللہ تعالی کی نظروں میں بھی تم معزز ہو گے اور دنیا بھی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے گی۔کہتے ہیں