انوارالعلوم (جلد 15) — Page xx
تعارف کتب انوار العلوم جلد ۱۵ جو ان آثار قدیمہ سے بہت زیادہ شاندار تھے جن کے خیال میں میرا دل محو تھا۔ایک بڑا جنتر منتر جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے میری آنکھوں کے سامنے پیدا ہوا۔بڑی بڑی غیر معمولی خوبصورتیوں والے باغات، عدیم المثال نہریں، بے کنار سمندر، عالیشان قصر ، ان کے لنگر خانے ، دیوانِ عام ، دیوانِ خاص، بازار لنگر خانے ، کتب خانے ، بے انتہا بلند مینار اور غیر محدود وسعت والی مسجد ، دلوں کو ہلا دینے والے مقبرے ایک ایک کر کے میری نگاہوں کے آگے پھرنی شروع ہوئیں اور میں نے کہا اُف ! میں کہاں آ گیا۔یہ چیزیں میرے پاس ہی موجود تھیں۔تمام دنیا کے پاس موجود تھیں لیکن دنیا ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔میرا دل خون ہو گیا اپنی بے بسی پر کہ میں یہ چیزیں دنیا کو دکھانے سے قاصر ہوں۔میرا دل خون ہو گیا دنیا کی بے تو جہی پر مگر میرا دل مسرور بھی تھا اس خزانے کے پانے پر کہ ایک دن میں یا خدا کا کوئی اور بندہ بیخفی خزا نے دنیا کو دکھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔“ چنانچہ ان تاریخی مقامات اور عجائبات قدرت کو ایک ایک کر کے آپ نے اپنی جلسہ سالانہ کی تقریروں میں روحانی رنگ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے پُر اثر اور روح پرور نظاروں کی شکل میں پیش فرمایا ہے کہ روح وجد میں آجاتی ہے۔( ۱۳ ) روس اور موجودہ جنگ جنگ عظیم دوئم کے دوران جب روس پولینڈ میں داخل ہوا تو اُس وقت حضرت مصلح موعود نے یہ مضمون تحریر فرمایا جو ۲ رستمبر ۱۹۳۹ء کے روز نامہ الفضل قادیان میں شائع ہوا۔حضور نے اس مضمون میں روس کے پولینڈ میں داخلہ کی وجوہات اور مقاصد کا تجزیہ کرتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ روس پولینڈ کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اس کی نیت ٹھیک نہیں لگتی۔اس نے جرمنی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے اور اپنی فوجیں پولینڈ بھیجنے پر مُصر اس لئے ہے کہ جرمنی کے لئے پولینڈ پر قبضہ کے لئے سہولت پیدا کر دے اور بغیر خونریزی کے پولینڈ کی حکومت ختم ہو جائے۔اگر اس طرح کامیابی نہ ہو تو اس معاہدہ کے ذریعہ جرمنی پولینڈ پر حملہ کر دے۔اگر دوسری اقوام دخل نہ