انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 167

انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب ادا کرتے ہیں اور جب وہ ہمارا کام کرتے ہیں تو ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم ان کا حق ادا کریں۔پس میں اپنی جماعت کے نو جوانوں کو خصوصاً اور دوسرے احباب کو عموماً یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ملک اور قوم کے قانونی وجود کو سمجھیں۔آرام سے بیٹھے رہنے اور اعتراض کرنے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں اور مبلغین کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے ان کے نزدیک گویا یہ لوگ ان کے باپ دادوں کا قرضہ اتار رہے ہیں وہ اپنی نادانی سے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ ہمارا ہی کام کر رہے ہیں۔ایسے لوگوں کی مثال اُس عورت کی سی ہے جو ایک اور عورت کے گھر آٹا پینے کے لئے گئی اُس نے اُس سے چکی مانگی گھر کی مالکہ نے اُسے چکی دے دی۔تھوڑی دیر کے بعد اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ رات آٹا پیتے پیتے تھک گئی ہوگی اور اس کی مدد کروں۔چنانچہ اُس نے اُسے کہا کہ بہن تم تھک گئی ہوگی تم ذرا آرام کر لومیں تمہاری جگہ چکی پیستی ہوں۔وہ عورت چکی پر سے اُٹھ بیٹھی اور ادھر ادھر پھر تی رہی اچانک اُس کی نظر ایک رومال پر جا پڑی جس میں روٹیاں تھیں اُس نے وہ رومال کھولا اور گھر کی مالکہ کو کہا بہن! تو میرا کام کرتی ہے تو میں تیرا کام کرتی ہوں اور یہ کہہ کر اُس نے روٹی کھانی شروع کر دی۔تو بعض لوگ اس قسم کی روح ظاہر کرتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ مبلغ کا شکریہ ادا کریں اور اس کی قربانیوں کی قدر کریں وہ ان پر اعتراض کر نے لگ جاتے ہیں گویا وہ مبلغ اُن کے باپ داداے کا قرض دار تھا اور اب وہ قرضہ ادا کر رہا ہے اور اگر اُس نے قرضہ کی ادائیگی میں ذرا بھی سستی دکھائی تو اُس کے گلے میں پڑکا ڈال کر وصول کر لیا جائے گا۔اس قسم کے اعتراضات کرنے والے بڑے بے شرم ہیں وہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ یہ ہمارا حق ادا کر رہا ہے اور جس کام کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اسے یہ سرانجام دے رہا ہے۔وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں اور اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں ایسے لوگ قومی شخصیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے صرف فردی شخصیت کو سمجھتے ہیں پس ہماری جماعت کے ان لوگوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور اس کی اصل حقیقت سے واقف ہونا چاہئے۔ان ایڈریسوں میں ہمارے بچوں کے آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسمانی طور پر بچوں کا آنا بے شک خوشی کا موجب ہوتا ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔میں غلط بیانی کروں گا اگر کہوں کہ مجھے ان بچوں کے آنے کی خوشی نہیں ہوئی۔دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ایسے موقع پر خوش نہ ہو باپ یا بھائی یا بیٹے کے آنے کے علاوہ کسی کا کوئی دوست بھی آئے تو میں