انوارالعلوم (جلد 15) — Page 155
انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو ۔۔ ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلا اور دشمن کے حملے سے بچنے کیلئے ایک غار میں پناہ گزین ہو گیا۔ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ الله معنا جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم مت کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس وقت تمہاری کونسی فو جیں تھیں جو اس کی مدد کر رہی تھیں ۔ فانزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ اس وقت خدا تعالیٰ نے خود اس پر اپنی سکینت اتارى وآيدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جس کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى، وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، اور اس نے ان روحانی لشکروں کے ذریعہ کفار کو اپنی تدبیروں میں نیچا دکھایا اور خدا اور اس کے رسول کا غلبہ ہوا ۔ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ اور اللہ ہی ہمیشہ غالب رہا کرتا ہے اور وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔ پھر فرماتا ہے اِنْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَا لا وَجَاهِدُوا بِا مْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ اے مؤمنو ! اگر تم اپنے ایمان میں پختہ ہو تو تم کمزور ہو تب بھی نکلو ، طاقتور ہو تب بھی نکلو ، مالدار ہو تب بھی نکلو، غریب ہو تب بھی نکلو ، بوڑھے ہو تب بھی نکلو، جوان ہو تب بھی نکلو، تمہارے اوپر ذمہ داریاں ہوں تب بھی نکلو، تمہارے اوپر ذمہ داریاں نہ ہوں تب بھی نکلو ، گھوڑوں پر سوار ہو تب بھی نکلو ، پیدل ہو تب بھی نکلو۔ اِنْفِرُوا خِفَا فَا وَشِقَالا تم چاہے ہلکے ہو چاہے بھاری تمہارا فرض ہے کہ دونوں صورتوں میں نکلو۔ وَجَاهِدُوا بِاً مُوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سبيل الله اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ جو عظیم الشان کام تیرے سامنے ہے وہ معمولی قربانیوں سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک تم میں سے ہر شخص اپنی جان اور اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک یہ کام نہیں ہو سکتا ۔ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ تمہیں کیا پتہ کہ گل کیا ہونے والا ہے۔ فرض کرو آج سے پچاس ساٹھ یا سو سال کے بعد تمہاری نسلوں نے اپنی قربانیوں کے بدلہ میں بادشاہت حاصل کرنی ہو تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ دن رات قربانیاں کرتے چلے جاؤ اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے قدم اس میدان میں سُست نہ ہونے دو۔ حضرت ابو ہریرہ نے ایک دفعہ کسرای شاہ ایران کا رومال اپنی جیب میں سے نکالا اور اس سے اپنی ٹھوک پونچھ لی۔ پھر کہنے لگے بخ بخ ابوھریرہ واہ واہ ابوہریرہ کبھی تجھے جوتیاں پڑا