انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 155

انوار العلوم جلد ۱۵ ط اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو۔۔ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلا اور دشمن کے حملے سے بچنے کیلئے ایک غار میں پناہ گزین ہو گیا۔إذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَن إن الله معنا جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم مت کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اس وقت تمہاری کونسی فو جیں تھیں جو اس کی مدد کر رہی تھیں۔فانزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ اس وقت خدا تعالیٰ نے خود اس پر اپنی سکینت اُتارى وآيد کا بجنود مرزا اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جس کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔وَجَعَلَ كَلِمَةَ الّذينَ كَفَرُوا الشغل، وَكَلِمَةُ اللو حي العليا، اور اس نے ان روحانی لشکروں کے ذریعہ کفار کو اپنی تدبیروں میں نیچا دکھایا اور خدا اور اس کے رسول کا غلبہ ہوا۔واللهُ عَزِيزُ حَكِيم اور اللہ ہی ہمیشہ غالب رہا کرتا ہے اور وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔پھر فرماتا ہے اِنْفِرُوا خِفَافاً وفقا لا وجَاهِدُوا با موالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللّو ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ٥ اے مومنو! اگر تم اپنے ایمان میں پختہ ہو تو تم کمزور ہو تب بھی نکلو، طاقتور ہوتب بھی نکلو، مالدار ہو تب بھی نکلو، غریب ہوتب بھی نکلو، بوڑھے ہو تب بھی نکلو، جوان ہو تب بھی نکلو، تمہارے اوپر ذمہ داریاں ہوں تب بھی نکلو، تمہارے اوپر ذمہ داریاں نہ ہوں تب بھی نکلو، گھوڑوں پر سوار ہو تب بھی نکلو، پیدل ہو تب بھی نکلو۔اِنْفِرُوا خِفَافاً وشقاً تم چاہے ہلکے ہو چاہے بھاری تمہارا فرض ہے کہ دونوں صورتوں میں نکلو۔وجَاهِدُ ذاباً مُوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللہ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ جو عظیم الشان کام تیرے سامنے ہے وہ معمولی قربانیوں سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔جب تک تم میں سے ہر شخص اپنی جان اور اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک یہ کام نہیں ہوسکتا۔ديكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُون تمہیں کیا پتہ کہ گل کیا ہونے والا ہے۔فرض کرو آج سے پچاس ساٹھ یا سو سال کے بعد تمہاری نسلوں نے اپنی قربانیوں کے بدلہ میں بادشاہت حاصل کرنی ہو تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ دن رات قربانیاں کرتے چلے جاؤ اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے قدم اس میدان میں سُست نہ ہونے دو۔حضرت ابو ہریرہ نے ایک دفعہ کسرای شاه ایران کا رومال اپنی جیب میں سے نکالا اور اس سے اپنی ٹھوک پو نچھ لی۔پھر کہنے لگے بخ بخ ابو ھریرہ واہ واہ ابو ہریرہ کبھی تجھے جوتیاں پڑا