انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 156

انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو۔۔کرتی تھیں اور آج تو کسری کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا۔آپ نے یہ کیا الله بات کہی ہے۔انہوں نے کہا مجھے رسول کریم ﷺ کی باتیں سننے کا اس قدر اشتیاق تھا کہ میں مسجد سے اُٹھ کر کبھی باہر نہ جاتا کہ ممکن ہے رسول کریم ﷺ تشریف لے آئیں اور آپ میرے بعد کوئی ایسی بات کہہ جائیں جسے میں نہ سن سکوں اور چونکہ میں اسی شوق میں ہر وقت مسجد میں پڑا رہتا تھا اس لئے کئی کئی دن کے فاقے ہو جاتے اور شدت ضعف کی وجہ سے مجھ پر غشی طاری ہو جاتی لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی پڑی ہوئی ہے اور چونکہ عرب میں یہ دستور تھا کہ وہ مرگی والے کو جو تیاں مارا کرتے تھے اس لئے جب میں بے ہوش ہو جاتا تو لوگ میرے سر پر جو تیاں مارنی شروع کر دیتے حالانکہ اس وقت بھوک کی شدت کی وجہ سے مجھے غشی ہوتی تھی اور کمزوری کے مارے میری آواز بھی نہیں نکل سکتی تھی۔پھر انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ میں بھوک سے اتنا تنگ ہوا کہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں اُٹھ کر مسجد کے دروازہ پر آ کر کھڑا ہو گیا کہ شاید میری شکل دیکھ کر ہی کوئی شخص سمجھ جائے کہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے اور وہ مجھے کھانے کے لئے کچھ دیدے۔اتنے میں حضرت ابو بکر وہاں سے گزرے اور میں نے ان کے سامنے ایک آیت پڑھی جس میں غریبوں کی خبر گیری کرنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے اور عرض کیا کہ اس کے ذرا معنی کر دیں انہوں نے اس آیت کے معنی کئے اور آگے چل دیئے۔اس واقعہ کا ان کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ باوجود یکہ جس زمانہ صلى الله میں انہوں نے یہ بات سنائی اس وقت رسول کریم عے بھی فوت ہو چکے تھے اور حضرت ابو بکر بھی فوت ہو چکے تھے اور حضرت عمر کا زمانہ تھا پھر بھی وہ اس وقت غصہ سے کہنے لگے ہوں ! گویا مجھے اس آیت کے معنے نہیں آتے تھے اور حضرت ابو بکر کو زیادہ آتے تھے۔میں نے تو یہ آیت ان کے سامنے اس لئے پیش کی تھی کہ میری شکل دیکھ کر انہیں میری طرف توجہ پیدا ہومگر انہوں نے معنی کئے اور آگے چل دیئے۔پھر حضرت عمرؓ گزرے اور ان کے سامنے بھی میں نے یہی آیت پیش کی انہوں نے بھی اس کے معنی کئے اور آگے چل پڑے۔حضرت ابو ہریرہا پھر بڑے غصہ سے کہتے ہیں۔ہوں ! گویا مجھے اس آیت کے معنی نہیں آتے تھے اور حضرت عمر زیادہ جانتے تھے۔میں نے تو اس لئے آیت ان کے سامنے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ جاتے کہ میں بھوکا ہوں مگر وہ معنی کر کے آگے چل پڑے۔اسی حالت میں میں حیران کھڑا تھا کہ پیچھے سے ایک نہایت محبت بھری آواز آئی کہ ابو ہریرہ۔میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم لیے