انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 140

انوار العلوم جلد ۱۵ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان سخت افسوس ہے۔میں نے ابھی خبر سنتے ہی موٹر میں ایک آدمی کو میر پور خاص بھجوا دیا ہے کہ فون کر کے دریافت کرے کہ کیا میرا وقت پر پہنچنا ممکن ہے یا نہیں اگر ایسا ہو سکا تو میری یہ خواہش کہ میں ان کا جنازہ پڑھا کر انہیں دفن کر سکوں پوری ہو جائے گی ، ورنہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحومہ کے خاوند چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم ایک نہایت مخلص اور قابلِ قدر احمدی تھے اور انہوں نے سب سے پہلے میری آواز پر لبیک کہی اور اپنی زندگی وقف کی اور قادیان آ کر میرا ہاتھ بٹانے لگے اس لئے ان کے تعلق کی بناء پر ان کی اہلیہ کا مجھ پر اور میری وساطت سے جماعت پر ایک حق تھا۔پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عزیزم چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب جنہوں نے اپنی عمر کے ابتدائی حصہ سے ہی رُشد وسعادت کے جو ہر دکھائے ہیں اور شروع ایامِ خلافت سے ہی مجھ سے اپنی محبت اور اخلاص کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں ، مرحومہ ان کی والدہ تھیں اور اس تعلق کی بناء پر بھی ان کا مجھ پر حق تھا لیکن باوجود اس کے کہ اکثر عورتوں کا تعلق طفیلی ہوتا ہے۔یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی کے سبب سے ہوتا ہے مرحومه ان منتقی عورتوں میں سے تھیں جن کا تعلق براہ راست اور بلا کسی واسطہ کے ہوتا ہے۔وہ اپنے مرحوم خاوند سے پہلے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں، ان سے پہلے انہوں نے بیعت خلافت کی اور ہمیشہ غیرت وحمیت کا ثبوت دیا، چندوں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینا، غرباء کی امداد کا خیال رکھنا ان کا خاص امتیاز تھا ، دعاؤں کی کثرت اور اس کے نتیجہ میں سچی خوابوں کی کثرت سے خدا تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی تھی۔انہوں نے خوابوں سے ہی احمدیت قبول کی اور خوابوں سے ہی خلافت ثانیہ کی بیعت کی۔مجھے ان کا یہ واقعہ نہیں بھول سکتا جو بہت سے مردوں کیلئے بھی نصیحت کا موجب بن سکتا ہے۔گزشتہ ایام میں جب احراری فتنہ قادیان میں زوروں پر تھا اور ایک احراری ایجنٹ نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب پر راستہ میں لاٹھی سے حملہ کیا تھا جب انہیں ان حالات کا علم ہو ا تو انہیں سخت تکلیف ہوئی۔بار بار چوہدری ظفر اللہ خان سے کہتی تھیں۔ظفر اللہ خاں ! میرے دل کو کچھ ہوتا ہے۔حضرت اماں جان کا دل تو بہت کمزور ہے ان کا کیا حال ہوگا۔کچھ دنوں بعد چوہدری صاحب گھر میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا جیسے مرحومہ اپنے آپ سے کچھ باتیں کر رہی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ بے بے جی کیا بات ہے تو مرحومہ نے جواب دیا کہ میں وائسرائے سے باتیں کر رہی