انوارالعلوم (جلد 15) — Page 139
انوار العلوم جلد ۱۵ كُلٌّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ اس کے غیرت مند افراد اپنی روایات قائم رکھنے کیلئے ہمیشہ جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔پس یہ موت تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک حکمت کام کرتی نظر آ رہی ہے۔چوہدری عبد القادر صاحب پلیڈر ایک چوہدری عبد القادر صاحب مرحوم ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے بڑے افراد سلسلہ کے سخت مخالف تھے اور ہیں۔نوجوانی میں احمدی ہوئے اور سب مخالفتوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پختہ ایمان کا ثبوت دیا۔باوجود ایک مکر وہ پیشہ سے تعلق رکھنے کے ایک نیک اور سعید نوجوان تھے اللہ تعالیٰ ان کی رُوح کو بخشش سے ڈھانپ لے۔خانصاحب فقیر محمد خانصاحب وہی خان صاحب فقیر محمد خانصاحب مرحوم ہیں جنہوں نے آج سے چند سال پہلے مجھے دہلی میں کہا تھا کہ ہماری دو والدہ تھیں اور ہر ایک سے دو دو بیٹے ہیں۔ہم نے انصاف سے کام لیا ہے اور ہر ایک والدہ کا ایک ایک بیٹا احمدیوں کو دے دیا ہے اور ایک ایک بیٹا سنیوں کو۔گویا روپیہ میں سے آٹھ آٹھ آنے ہم نے دونوں میں تقسیم کر دیئے ہیں اور میں نے اس پر انہیں جواب دیا تھا کہ خدائی سلسلے اس تقسیم پر خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ تو سارا ہی لیا کرتے ہیں۔وہ اس وقت اپنے اہل وعیال سمیت ولایت جا رہے تھے ان کو خدا نے انگلستان میں ہی ہدایت دی اور وہیں سے بیعت کا خط لکھ دیا اور لکھا آپ کی بات کس قدر جلد پوری ہو گئی۔میں تیسری چونی آپ کے پاس بیعت کیلئے آتا ہوں دعا کریں چوتھی چونی یعنی بقیہ بھائی بھی احمدی ہو جائے۔انہوں نے پہلا چندہ اسی دن بھجوایا اور پھر نہایت استقلال سے دینی خدمات میں حصہ لیتے رہے۔گزشتہ سال ان کے اکلوتے لڑ کے عزیز کیپٹین ڈاکٹر نثار احمد کا لڑائی میں گولی لگنے سے انتقال ہو گیا۔اب ایک سال کے بعد وہ چھت کے گر جانے کی وجہ سے وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیهِ رُجِعُونَ ہمارا لاؤڈ سپیکر عرصہ تک ان کی رُوح کے لئے ثواب کا ذریعہ بنا رہے گا اور اس کی گونج میں ان کی آواز ہمیں ان کی یاد دلاتی رہے گی۔چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب آخر میں عزیزم چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ کی وفات کی خبر آئی ہے اور کی والدہ صاحبہ کی وفات افسوس کہ اس وقت کہ میں مرکز سے بہت دور ہوں اور آسانی سے میرا وہاں پہنچنا اور جنازہ میں شامل ہونا مشکل نظر آ رہا ہے جس کا مجھے