انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 135

انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ اقرار کریں کہ احمدی راستباز اور دیانت دار ہوتے ہیں اور ہمارے مخالفوں کے پراپیگنڈا کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔تبلیغ اس طرح نہیں کہ فرصت کا وقت نکال کر کی جائے بلکہ کام کا حرج کر کے بھی (سوائے اس کے کہ انسان دوسرے کا ملازم ہو۔اس صورت میں اپنے آقا کے مفاد کا خیال رکھنا اس کیلئے ضروری ہے) تبلیغ کی جائے۔مگر یادر ہے کہ یہ تبلیغ صرف زبانی نہیں ہونی چاہئے۔احمدیت کی فوقیت ثابت کرنے کیلئے ضروری ہے کہ دوست خدمت خلق کے کام بھی کیا کریں کیونکہ عملی تبلیغ زبانی تبلیغ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے اسی لئے میں نے خدام الاحمدیہ کو قائم کیا ہے جو بعض جگہ اس بارہ میں نہایت اچھے کام کر رہے ہیں۔۔چندوں میں باقاعدگی اور باقاعدگی کے بعد مسابقت کی روح کا پیدا کرنا۔میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ ہر احمدی مالی قربانی میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے حتی کہ سلسلہ کی مالی پریشانیاں دور ہو جائیں اور اس کی اشاعت کا دامن وسیع ہو جائے۔ا۔بی۔اے، ایم۔اے، مولوی فاضل، ڈاکٹر ، وکیل نوجوان اپنی زندگیاں دین کی خدمت کیلئے وقف کریں تا انہیں سلسلہ کے کاموں اور تبلیغ کے لئے تیار کیا جائے اور وہ سلسلہ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کا کام کریں اور اس کے علاوہ سلسلہ کے جن اور کاموں میں ان کی خدمات کی ضرورت ہو ان کے لئے وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔اگر کوئی نو جوان ان اغراض کیلئے طالب علمی کی زندگی بسر کر رہے ہوں اور وہ ایک دو سال میں فارغ ہونے والے ہوں تو وہ بھی اپنے نام پیش کر سکتے ہیں۔۵۔ہر حکومت اور ہر نظام کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے دین کی ترقی کیلئے کوشش کرنا کہ اس پر عمل کرنے کے بغیر ہم احمدیت کی تعلیم کی برتری ثابت نہیں کر سکتے۔چھٹی بات جو در حقیقت تبلیغ کا ہی ایک حصہ ہے میں اس جگہ اس کا بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ چونکہ مخالف ہر جگہ حکام اور دیگر با اثر لوگوں کے کان بھرتا رہتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے بارسوخ لوگ اور افسر متواتر غلط باتیں سن کر احمدیوں کے خلاف متأثر ہو جاتے ہیں اس لئے ہر ضلع میں پراپیگنڈا کمیٹیاں بنائی جائیں جو اپنی اپنی جگہ مختلف اقوام کے چیدہ لوگوں سے اور حکام سے ملتی رہیں اور احمدیت کے خلاف جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کی حقیقت سے انہیں آگاہ کرتی رہیں۔وہ افراد بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے کوئی پوزیشن دی ہے اپنے تعلقات کو بڑھائیں اور ہر قسم کے حکام کو یا ہر شعبہ زندگی میں