انوارالعلوم (جلد 15) — Page 136
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ اثر رکھنے والے دوسرے افراد کو اس شرارت سے آگاہ کرتے رہیں جو سلسلہ کے دشمن اس کے خلاف کر رہے ہیں اور ان حکام کے رویہ سے بھی واقف کریں جو محض تعصب یا دشمنوں کی جھوٹی باتوں سے متاثر ہو کر جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ان افراد اور کمیٹیوں کو چاہئے کہ اپنے کام سے مرکز کو اطلاع دیتے رہا کریں اور جو مشکلات پیش آئیں ان کے متعلق مرکز سے مشورہ لیتے رہا کریں۔اس کے لئے ہر جماعت کو ایک سیکرٹری امور عامہ مقرر کرنا چاہئے جس کی غرض زیادہ تر اس کام کو منظم صورت میں کرنا اور کرانا ہو۔میں سمجھتا ہوں اگر دوست میری اس تجویز پر علاوہ دوسری تجاویز کے عمل کرنا شروع کریں تو بہت جلد اس فتنہ کی سختی کم ہو جائے گی۔اگر ایک طرف سچائی اور قربانی خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچے گی تو دوسری طرف تبلیغ اور پراپیگنڈا لوگوں کو حقیقت حال سے واقف کر کے دشمن کے ضرر کو محدود کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام جماعت کو اس وقت کی ضرورت کو سمجھنے کی توفیق دے اور جوش اور اظہارِ غضب کے بجائے بچی قربانی کے پیش کرنے اور اس پر مستقل رہنے کی توفیق دے کیونکہ قربانی وہ نہیں جو ہم پیش کرتے ہیں قربانی وہی ہے جس کا زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہمارا رب ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ہمارے دشمنوں کو ہم نے نہیں بلکہ ہمارے خدا نے شکست دینی ہے۔سچی قربانیاں کرو اور دعائیں کرو اور کبر اور خود پسندی کو چھوڑ دو اور بڑے ہو کر منکسر مزاج بنو اور طاقت کے ہوتے ہوئے عفو کو اختیار کرو تا اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہو۔یا د رکھو کہ جن قربانیوں کا میں پہلی قسط کے طور پر مطالبہ کر رہا ہوں معمولی قربانیاں نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفس کو مارنا دشمن کو مارنے سے بہت زیادہ مشکل کام ہے۔اگر جماعت صداقت کے اس معیار کو قائم کر دے جسے سلسلہ احمدیہ پیش کرتا ہے تو یقیناً اسے کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کمزوری ہماری ہی طرف سے ہوتی ہے ورنہ ہمارا خدا وفادار ہے۔وہ خود ہمیں نہیں چھوڑتا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ والسلام۔خاکسار مرزا محمود احمد ( الفضل ۱۲ رمئی ۱۹۳۸ء) الاعلى: ١٠